اسرائیل پر یورینیم افزودگی کے کارخانہ کو نقصان پہنچانے حکومت تہران کا الزام
تہران : ایران میں نطنز کی نیوکلیئر تنصیب کے اندر ہوئے دھماکہ سے متعلق حقائق سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں ایک انٹیلی جنس اہل کار نے امریکی اخبار “نیویارک ٹائمز” کو بتایا ہے کہ ایک دھماکا خیز آلہ خفیہ طور سے نطنز کی تنصیب کے اندر پہنچایا گیا اور پھر دور سے اس کا دھماکہ کیا گیا۔انٹیلی جنس اہل کار کے مطابق نطنز دھماکہ کے نتیجہ میں بجلی مرکزی اور فاضل نظام دونوں تباہ ہو گئے۔حملے میں نطنز کی تنصیب کو شدید نقصان پہنچنے کے باوجود ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) میں ایرانی مندوب یہ اعلان کر چکے ہیں کہ تہران جلد ہی نطنز کے ری ایکٹرز میں جدید سینٹری فیوجز کی تنصیب عمل میں لائے گا۔ایران اپنی نیوکلیئر تنصیب کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف شکایت پیش کر چکا ہے۔ البتہ اس واقعہ کی تفصیلات اس پر عمل درامد کے طریقہ کار اور اس کے نتیجے میں ہوئے نقصان پر ابھی تک اسرار کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ ایران نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ نطنز میں یورینیم افزودگی کے کارخانے کی تخریب کاری میں ملوث ہے۔ ساتھ ہی ایران نے انتقامی کارروائی کرنے اور اپنی نیوکلیئر سرگرمیاں بڑھانے کی دھمکی بھی دی ہے۔ادھر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران میں نطنز کی تنصیب پر حملے سے امریکہ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ساتھ باور کرایا گیا ہے کہ واشنگٹن کی توجہ رواں ہفتے ایرانی نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے سفارتی بات چیت پر مرکوز ہے۔امریکی ذرائع نے العربیہ کے نما ئندے کو بتایا ہے کہ امریکیوں نے نطنز حملے کے بعد مشرق وسطی میں امریکی فوجیوں اور تنصیبات کے تحفظ کے لیے کوئی “خاص اقدام” نہیں کیا ہے۔نطنز حملہ کے سبب ممکنہ طور پر نطنز کی تنصیب کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اتوار کے روز تنصیب کا دورہ کرتے ہوئے ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم کے ترجمان بہروز کمالوندی ایک گڑھے میں گر گئے جس کی گہرائی 20 فٹ سے زیادہ تھی۔ اس کے نتیجے میں کمالوندی کے سر میں چوٹ آئی اور ان کے ٹخنے کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اتوار کے روز ہونے والے دھماکے کے بعد نطنز کی تنصیب میں بجلی کی ہنگامی فراہمی کا نظام کام نہیں کر رہا ہے۔ اس کے سبب سینٹری فیوجز کے کام کرنے کی رفتار بڑی تیزی سے سست پڑ گئی۔ اس کے نتیجے میں بعض یا پھر کئی سینٹر فیوجز نے کام کرنا چھوڑ دیا۔
