تہران: ایران نے حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد متعدد فوجی اور انٹلیجنس افسروں کو گرفتار کرلیا۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی تحقیقات کے سلسلے میں متعدد ایرانی انٹیلیجنس اورفوجی افسران کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ایران کے اس گیسٹ ہاؤس کے ملازمین کو بھی جہاں اسماعیل ہنیہ مقیم تھے گرفتار کیا گیا ہے۔ اسماعیل ہنیہ پر تہران میں قاتلانہ حملہ ایران کی سکیورٹی کے لیے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب کی خصوصی انٹیلیجنس ٹیم اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
اسرائیل سے ’فوجی طریقہ‘ سے نمٹیں گے : حوثی
صنعا :یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے رہنما نے، تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے جواب میں، جس کا الزام اسرائیل پر عائد کیا گیا ہے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔اسرائیل نے بھی انتباہ دیاہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوںکسی بھی جارحیت کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔عبدالمالک الحوثی نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویوں میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے ان خطرناک جرائم پر کوئی فوجی ردعمل ہونا چاہیے، یہ اسرائیلی دشمن کی طرف سے ایک بڑا اضافہ ہے۔باغی لیڈر نے حماس کے سربراہ کے قتل کو تمام اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔