واشنگٹن ۔ 9 فروری (ایجنسیز) امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ کینتھ نے پہلی بار کھل کر اعتراف کیا ہے کہ ایران میں ڈالر کی شدید قلت اور معاشی بحران کے پس پردہ امریکہ کی منظم پالیسی شامل تھی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ اعتراف امریکی سینیٹ میں سوال و جواب کے دوران سامنے آیا، جہاں سینیٹر کیٹی الزبتھ نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی پر سوال اٹھایا تھا۔ اسکاٹ کینتھ نے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ امریکہ نے ایران میں ڈالر کا ایسا بحران پیدا کیا جس کے اثرات پورے مالیاتی نظام پر مرتب ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ دسمبر کے مہینے میں ایک ایرانی بینک دیوالیہ ہوا جس کے بعد بحران نے شدت اختیار کر لی اور صورتحال قابو سے باہر ہو گئی۔ امریکی وزیر خزانہ کے مطابق امریکی اقدامات کے باعث ایران کے مرکزی بینک کو بڑے پیمانے پر کرنسی نوٹ چھاپنے پڑے، جس سے ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ چھاپنے کے نتیجے میں ایران میں مہنگائی بے قابو ہو گئی اور عام شہری شدید متاثر ہوئے۔