اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے دعوی کیا ہیکہ ایران نے اس سال خطرناک حد تک بڑی تعداد میں لوگوں کو سزائے موت دی ہے جہاں اوسطاً یہ تعداد ہر ہفتے 10 سے تجاوز کر گئی ہے ۔ملک میں یکم جنوری سے اب تک کم از کم 209 افراد کو پھانسی دی گئی جن میں سے زیادہ تر کو بنیادی طور پر منشیات سے متعلق جرائم میں سزا دی گئی، لیکن اقوام متحدہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ سزائے موت پانے والوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ وولکر نے کہا کہ ایران میں اس سال اب تک اوسطاً ہر ہفتے 10 سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جو اسے دنیا کے سب سے زیادہ سزا دینے والے ممالک میں سے ایک بنا دیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس شرح کے ساتھ ایران تشویشناک حد تک پچھلے سال کی ڈگر پر گامزن ہے جب مبینہ طور پر تقریباً 580 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی۔ایران نے پیر کے روز دو افراد کو سوشل میڈیا پر توہین رسالت کے الزام میں پھانسی دے دی جس کی ناصرف امریکہ نے مذمت کی بلکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ ایران میں سزائے موت کا رجحان بڑھتا ہی جارہا ہے۔