ایران میں 18 صحافی زیرحراست ’’خواتین کی بغاوت‘‘روکنے کی کوشش

   

تہران : ایران میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے سرگرم کمیٹی نے بتایا کہ نوجوان خاتون مہسا امینی کے پولیس کے ہاتھوں مبینہ قتل کے بعد پولیس نے اب تک کم سے کم 18 صحافیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ صحافیوں کی گرفتاری کے لیے کسی قسم کے وارنٹ جاری نہیں کیے گئے اور ان پر لگائے گئے الزامات کی تفصیل بھی پردہ رازمیں ہے۔اس کے علاوہ سماجی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کو بھی گرفتار کیا گیا، جن میں آزادی اظہار کیسرگرم کارکن حسین روناگی بھی شامل ہیں۔ روناگی نے ہفتے کے روز لندن میں قائم ایران انٹرنیشنل کو انٹرویو دیا تھا جس کے بعد پولیس نے انہیں ان کے گھرسے ان کے دو وکلا سمیت حراست میں لے لیا ہے۔رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا کہ “اہم تشدد کے تناظر میں اور واٹس ایپ اور انسٹاگرام تک رسائی کو نمایاں طور پر محدود کرنے کے بعد صحافیوں پر حملوں کے بعد ایرانی حکام واضح پیغام دے رہے ہیں کہ مظاہروں سے متعلق کوئی رپورٹ شائع نہ کی جائے۔تنظیم نے ان صحافیوں کی فوری رہائی اور ایرانیوں کو معلومات کے حصول کے حق سے محروم کرنے والی تمام پابندیوں کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔