ایران نیوکلیئر مذاکرات میں اتفاق رائے کیلئے کوشاں

   

مسلمہ دائرہ کار سے باہر کی شرط ناقبل قبول ، ایرانی وزیر خارجہ کا بیان

ویانا : ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان نے کہا ہے کہ ویانا مذاکرات میں ایرانی مذاکرات کار ٹیم جدت عمل اور ضروری اختیار کی حامل ہے اور اچھی اتفاق رائے تک پہنچنے کیلئے سنجیدگی سے کوشش کر رہی ہے‘مغربی فریق میں جدت عمل کے فقدان کی وجہہ سے مذاکرات سست رفتارسے آگے بڑھ رہے ہیں‘ایران جے سی پی او اے کے دائرہ سے باہر کسی بھی عہد و پیمان کو قبول نہیں کرے گا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مابین ویانا مذاکرات سمیت مختلف علاقائی و عالمی مسائل پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔حسین امیر عبداللھیان نے اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اینٹونیو گوٹیرس سے اس گفتگو میں ویانا مذاکرات اور دوطرفہ اہمیت کے حامل کچھ مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ویانا مذاکرات میں ایرانی مذاکرات کار ٹیم جدت عمل اور ضروری اختیار کی حامل ہے اور اچھی اتفاق رائے تک پہنچنے کیلئے سنجیدگی سے کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مغربی فریق میں جدت عمل کے فقدان کی وجہہ سے مذاکرات سست رفتارسے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے فریق مقابل کو دو موضوع ’ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے‘ اور ’جوہری مسائل‘ کے پیرایے میں اپنی تجویز پیش کی ہے۔ امیر عبداللہیان نے واضح کیا کہ ایران کی طرف سے پیش کردہ تجویز جوہری معاہدے جے سی پی او اے کے مطابق ہے اور ایران نے کوئی بھی مطالبہ اس معاہدے سے ہٹ کر نہیں کیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ایران جے سی پی او اے کے دائرہ سے باہر کسی بھی عہد و پیمان کو قبول نہیں کرے گا۔حسین امیر عبد اللھیان نے کہا کہ ایران نے مذاکرات میں اچھی تجاویز پیش کی ہیں جو پائدار اتفاق رائے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغرب جس طرح کی تشویش کا دعوی کر رہا ہے اسکے ختم ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ان سبھی پابندیوں کو ہٹایا جائے جنہیں جے سی پی او اے کے تحت ہٹانے پر اتفاق ہوا تھا۔ایران کے وزیر خارجہ نے ایران اور جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی ا?ئی اے ای اے کے مابین تازہ مفاہمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کرج کی ایٹمی تنصیبات میں تخریب کاری کی ا?ئی اے ای اے کے ڈائرکٹر جنرل کی طرف سے مذمت کے بعد ایران نے حسن نیت کے طور پر ان تنصیبات میں کیمرہ لگانے کی اجازت دینے کا اعلان کیا۔ایرانی وزیر خارجہ اور اینٹونیو گوٹیرس کے مابین اس ٹیلیفونی گفتگو میں لبنان کے مسائل پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ امیر عبد اللہیان نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان پر صیہونی حکومت کی جارحیت کو لگام لگائے۔