ایران نیوکلیئر ہتھیاروں کا خواب چھوڑ دے ، ورنہ سنگین ردعمل کیلئے تیار رہے :ٹرمپ

   

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی دھمکی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہیکہ ایران نیوکلیئر ہتھیاروں کا خواب دیکھنا چھوڑ دے ، ورنہ وہ سنگین ردعمل کیلئے تیار رہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کا ماننا ہیکہ ایران جان بوجھ کر امریکہ کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے میں تاخیر کر رہا ہے ، اور اسے نیوکلیئر ہتھیاروں کے حصول کی کسی بھی مہم کو ترک کرنا ہوگا، یا تہران کی نیوکلیئر تنصیبات پر ممکنہ فوجی حملے کا سامنا کرنا پڑے گا۔امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کی عمان میں ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں وہ ہمیں ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ایران اور امریکہ دونوں نے ہفتے کو کہا تھا کہ انہوں نے عمان میں مثبت اور تعمیری بات چیت کی ہے ۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران نیوکلیئر ہتھیاروں کا خواب دیکھنا چھوڑ دے ، ایران کے پاس نیوکلیئر ہتھیار نہیں ہو سکتے ، یہ پوچھے جانے پر کہ کیا جوابی کارروائی کیلئے امریکہ کے آپشنز میں تہران کی نیوکلیئر تنصیبات پر فوجی حملہ بھی شامل ہے ، ٹرمپ نے کہا کہ یقیناً ایسا ہوسکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانیوں کو سخت ردعمل سے بچنے کیلئے تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ نیوکلیئر ہتھیار تیار کرنے کے کافی قریب ہیں۔ سابق صدر بائیڈن کے دور میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوئے تھے ، لیکن ان میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔دونوں حکومتوں کے درمیان آخری براہ راست مذاکرات اس وقت کے صدر براک اوباما کے دور میں ہوئے تھے ، جنہوں نے 2015 کے بین الاقوامی نیوکلیئر معاہدے کی قیادت کی تھی، جسے ٹرمپ نے بعد میں ختم کر دیا تھا۔ڈونالڈ ٹرمپ نے 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے نیوکلیئر معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ہالینڈ کے وزیرخارجہ اور دوسرے سفارتی ذرائع نے پیر کے روز کہا تھا کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا اگلا دور روم میں ہوگا۔ہالینڈ کے وزیر خارجہ کیسپر ویلڈ کیمپ نے یورپی یونین کے اجلاس میں کہا کہ مذاکرات اطالوی دارالحکومت میں ہوں گے۔ روم میں مقیم 2 سفارت کاروں نے اس مقام کی تصدیق کی اور کہا کہ مذاکرات ہفتہ 19 اپریل کو ہوں گے ۔ایران کی وزارت خارجہ نے اتوار کو کہا تھا کہ اگلے ہفتے ہونے والے مذاکرات عمانی ثالثی کے ساتھ بالواسطہ رہیں گے اور اس میں صرف نیوکلیئر مسئلے اور پابندیوں کے خاتمے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
ہفتے کے روز ہونے والے مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ، جب چند ہفتے قبل ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط بھیجا تھا، جس میں نیوکلیئر مذاکرات پر زور دیا گیا تھا اور متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر ایران انکار کرتا ہے تو ممکنہ فوجی کارروائی کی جائے گی۔