ایران پر اسرائیل۔امریکہ حملہ پر مودی کی مجرمانہ خاموشی

   

سونیا گاندھی
ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے قتل پر وزیراعظم مودی اور ان کی حکومت کی خاموشی بڑی افسوسناک ہے۔ اس لیے کہ ایران ہندوستان کا ایک اچھا دوست رہا اور عالمی پلیٹ فارمس پر کشمیر جیسے مسئلہ پر ایران نے ہمیشہ ہندوستان کا ساتھ دیا۔ نریندر مودی حکومت ایرانی رہبر اعلی سید علی خامنہ ای کے چن قتل (ٹارگٹ کلنگ) کی شدید الفاظ میں مذمت کرنے کے بجائے اپنے دفاع میں یہ کہہ رہی ہے کہ ہماری خاموشی یا کسی بھی قسم کے ردعمل سے گریز دراصل ہماری غیر جانبدارانہ رہنے کی پالیسی کا ایک حصہ ہے جبکہ ہماری نظر میں یہ غیر جانبداری نہیں بلکہ انصاف، سچائی کا ساتھ دینے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سے متعلق ہندوستانی پالیسی سے دستبرداری ہے۔ اس مسئلہ پر مودی اور ان کی حکومت کی خاموشی دیکھا جائے تو ناقابل فہم ہے۔ یہ خاموشی حقیقت میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی سمت اور ساکھ کے بارے میں سنگین شکوک و شبہات پیدا کرتی ہے، کئی سوالات اٹھاتی ہے۔ کانگریس اس خاموشی کے لیے حکومت کو پارلیمنٹ میں گھیرے گی اور خاص طور پر جب پارلیمنٹ بجٹ پر بحث کے دوسرے حصہ کے لیے دوبارہ بلائی جائے گی تب عالمی نظام کی خراب، تباہی و بربادی پر حکومت کی مجرمانہ اور پریشان کن خاموشی پر کھلے دل سے بحث ہونی چاہئے۔ اس میں کسی قسم کی غفلت نہیں برتی جانی چاہئے۔ مودی حکومت کی خاموشی پر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان نے ظالموں کی مخالفت اور مظلوموں کی تائید و حمایت کی اور یہی ہماری روایات ہیں۔ ایسے میں اخلاقی طاقت اخلاقی اقدار کو بازیافت کرنے اور اسے واضح عزم کے ساتھ بیان کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ (واضح رہے کہ یکم مارچ کو ایران نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس کے رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کئے گئے چن حملوں میں شہید کردیئے گئے ہیں) ایک ایسے وقت جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا اور جاری مذاکرات کے درمیان ایک موجودہ سربراہ مملکت کا قتل جدید بین الاقوامی تعلقات میں ایک شدید دراڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ واقعہ اس قدر سنگین ہے جس کی فوری طور پر مذمت کی جانی چاہئے تھی اس کے باوجود واقعہ کے صدمہ سے ہٹ کر جو چیز واضح طور پر سامنے آتی ہے وہ نئی دہلی کی خاموشی ہے۔ حکومت کو اس قتل کی مذمت کرنی چاہئے تھی لیکن حکومت ہند نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل یا ایران کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کرنے سے گریز کیا ہے۔ ابتدائی طور پر بڑے پیمانہ پر امریکی۔ اسرائیلی حملہ کو نظرانداز کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے آپ کو متحدہ عرب امارات میں واقع امریکی فوجی اڈوں و مفادات پر ایران کے جوابی حملوں کی مذمت تک محدود رکھا۔ انہوں نے اس سے پہلے کے واقعات کی ترتیب کا حوالہ دینا تک مناسب نہیں سمجھا اور گہری تشویش ظاہر کرنے کی بجائے مذاکرات ار سفارت کاری کی بات کی جو بالکل وہی ہے جو اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے بڑے پیمانے پر شروع کئے گئے بلا اشتعال حملوں سے پہلے جاری تھا۔ بہرحال جب کسی غیر ملکی رہنما کی ٹارگٹ کلنگ پر ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کیا جاتا ہے اس سے اس ملک کی خود مختاری یا عالمی قوانین کا کوئی واضح دفاع نہیں ہوتا ہے اور غیر جانبداری کو ترک کردیا جاتا ہے تو یہ ہماری خارجہ پالیسی کی سمت اور ساکھ کے بارے میں سنگین شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو مودی حکومت کی خاموشی اس مثال میں غیر جانبداری نہیں ہے۔ ویسے بھی یہ قتل حکومت کی خارجہ پالیسی پر سنگین شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ مودی کی خاموشی دراصل اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے چھیڑی گئی جنگ اور اس سے پیدا شدہ سانحہ کی سیاسی توثیق ہے۔ (یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ صدر کل ہند کانگریس کمیٹی ملکارجن کھرگے نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے سید علی خامنہ ای کی شہادت پر ایرانی عوام اور ساری دنیا کی شیعہ برادری سے اظہار تعزیت کیا اور کہا تھا کہ کسی بیرونی طاقت کو حکومت کی تبدیلی کا اختیار نہیں ہے اور اس قسم کے اقدامات سامراجی رجحانات کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔)
سید علی خامنہ ای کا چن قتل حقیقت میں ایک غیر ملکی سربراہ مملکت کا وحشیانہ قتل ہے اور اس سے مغربی ایشیاء میں عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ اسے کسی بھی طرح بیرونی معاملت نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ یہی بالواسطہ ہندوستان کے اسٹریٹیجک مفادات اور اخلاقی وابستگیوں کو چھوتے ہیں۔ ہندوستان نے ایک طویل مدت سے واسودھائیو کٹمبم یعنی ساری دنیا ایک کنبہ ہے کے تصور یا نظریہ پر زور دیا ہے اور ہمارا یہ نعرہ صرف تہذیبی و ثقافتی اور اخلاقی سفارتکاری کا نعرہ نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب انصاف عمل اور مذاکرات کے ذریعہ ہر مسئلہ کے حل کا عزم ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عالمی اصولوں اور قوانین کی جب دھجیاں اڑائی جاتی ہیں تو یہ سارا عالم اور عالمی برادری کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہے۔ اگر ہم اقوام متحدہ کے چارٹر پر بھی غور کریں یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ چارٹر کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی یا طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا۔ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے اور اس جمہوریت کی جانب سے ایک سربراہ مملکت کے چن قتل پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا جاتا، اس کی مذمت نہیں کی جاتی، اعتراض نہیں کیا جاتا تو پھر عالمی قوانین سے کھلواڑ کا رجحان عام ہوجاتا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل سے 48 گھنٹے قبل مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا اور وہاں مودی نے بنجامن نیتن یاہو اور ان کی حکومت کی غیر متزلزل تائید و حمایت کا اعلان کیا (حالانکہ 7 اکٹوبر 2023ء سے آج تک اسرائیلی فورسس کے ہاتھوں 75 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادتیں ہوئیں جن میں خواتین اور بچوں کی اکثریت ہے۔ عالمی عدالت انصاف نے نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیتے ہوئے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیا ہے اور دنیا بھر میں نیتن یاہو غزہ کے قصائی کے طور پر بدنام ہوگئے ہیں۔)
مودی نے نیتن یاہو اور اسرائیل کی ایسے وقت بھر پور تائید و حمایت کا اعلان کیا جبکہ غزہ تنازعہ اور فلسطینیوں کا قتل عام عالمی سطح پر برہمی اور غم و غصہ کا باعث بنا ہوا ہے۔ مودی نے خود کو ایران کے یو اے ای میں واقع امریکی اڈروں پر حملوں کی مذمت تک ہی محدود رکھا ہے جبکہ برکس اور جنوبی ایشیاء کے ملکوں نے جہاں یو اے ای پر ایران کے حملوں کی مذمت کی وہیں ایران کے رہبر اعلی علی خامنہ ای کے چن قتل پر بھی مذمتی بیانات جاری کئے۔ مودی حکومت نے ایران کے تعلق سے جو موقف اختیار کیا اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر گلوبل ساوتھ کے ملکوں کو کل ہندوستان پر اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے کیوں بھروسہ کرنا چاہئے۔ بی جے پی لیڈر اور سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے ہمیشہ فلسطینی کاز کی تائید و حمایت کی اور ایران کے ساتھ انوہں نے ہندوستان کے تعلقات کو مستحکم کیا۔ لیکن واجپائی کی پالیسی بھی موجودہ حکومت کیلئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ مودی حکومت کو یہ بھی نہیں فراموش کرنا چاہئے کہ ایران نے اس وقت ہندوستان کی مدد کی جب او آئی سی کے کچھ ارکان نے UNHCR میں کشمیر پر قرارداد لانے کی کوشش کی۔ ایک بات ضرورت ہے کہ مودی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو وسعت دی ہے۔ ایسے میں نئی دہلی کو تہران اور تل ابیب دونوں کے ساتھ تعلقات کو یکساں اہمیت دینی چاہئے تھی۔ ہندوستان کو خلیج میں برسر خدمت اپنے ایک کروڑ سے زائد شہریوں (ہندوستانی تارکین وطن) کے تحفظ پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔
ایران پر اسرائیل اور امریکی حملے ان حملوں کے ذمہ داروں کی جانب سے ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے چن قتل پر وزیراعظم نریندر مودی کی مجرمانہ خاموشی سارے ملک اور اس کی وراثت پر بدنما داغ ہے۔ کانگریس نے مودی حکومت سے سوال کیا کہ آیا ہندوستان کو اس بات کا علم تھا کہ امریکہ بحرہند میں ایرانی جہاز پر حملہ کرنے والا ہے؟ اگر ہندوستان کو اس کا علم تھا تو آپ (مودی) نے کیا کیا ؟ اور اگر خبر نہیں تھی تو ہماری حکومت نے اپنے ایرانی مہمانوں کی حفاظت کے لیے کیا قدم اٹھائے۔ کانگریس ترجمان پون کھیڑا کے مطابق ایران پر امریکہ و اسرائیل کی فوجی کارروائی کے بعد بحر ہند میں ہندوستانی جنوبی ریاست آندھراپردیش کے وشاکھا پٹنم سے واپس ہونے والے ایرانی جہاز پر امریکی حملہ کے باوجود مودی کی خاموشی سے کانگریس حیران ہے۔ مودی حکومت کا یہ رویہ اصل میں ہمارے ملک اور اس کی وراثت پر بدنما دھبہ ہے۔ ہندوستان مہمانوں کو دیوتائوں کا درجہ دیتا ہے اور نریندر مودی بھی اکثر ہندوستان کے ان اصولوں کا حوالہ دیتے ہیں لیکن ان کے طریقہ کار (عمل) اور خارجہ پالیسی میں ان دونوں منتروں کا عنصر دکھائی نہیں دیتا۔ کھیڑا کے مطابق ایک اور منتر ہے ’’منونم سویگرتی لکشنم‘‘ یعنی خاموش رہنما منظوری یا تائید و حمایت کا اشارہ ہوتا ہے۔ مودی جی کی خاموشی میں بھی بہت کچھ سنائی دے رہا ہے جسے سن کر ساری دنیا حیران ہے۔