واشنگٹن ،یکم مارچ (یو این آئی) امریکہ کی سابق نائب صدر کملا ہیریس نے ایران پر بڑے پیمانے پر امریکی فوجی حملوں اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ انہوں نے اس فوجی کارروائی پرشدید تحفظات کا اظہار کیا ۔ہفتے کوجاری ایک بیان میں کملا ہیریس نے کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ملک کو ایک ایسی جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں جس کی امریکی عوام کو ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ایک خطرناک اور غیر ضروری جوا ہے ، جو نہ صرف امریکی جانوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کی آگ کو مزید بھڑکا سکتا ہے ۔کملا ہیریس نے واضح کیا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کسی بھی جنگ کی حمایت نہیں کرتیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی فوجیوں کو محض ایک انتخابی جنگ کی خاطر خطرے میں ڈالا جا رہا ہے ۔ ان کے مطابق، امریکی آئین کے تحت صدر کسی بھی جنگی اقدام سے قبل کانگریس کی منظوری کا پابند ہے ، لہٰذا کانگریس کو چاہیے کہ وہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس کو فوری روکے ۔
سابق نائب صدر نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ ایران کے خطرات سے آگاہ ہیں اور اسے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ضروری ہے ، لیکن موجودہ راستہ اس مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ انہوں نے خطرناک مشنز پر تعینات امریکی فوجیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس وقت “جنگی جنون” کے بجائے ایک ذمہ دار اور متوازن قیادت کی ضرورت ہے جو عوام، اتحادیوں اور فوجیوں کے مفادات کا تحفظ کر سکے ۔