واشنگٹن ۔ 17 جنوری (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ نہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نے انہیں ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل نہیں کیا۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا عرب اور اسرائیلی حکام نے آپ کو ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل کیا؟ اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ کسی نے مجھے قائل نہیں کیا، میں نے خود اپنے آپ کو قائل کیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ گزشتہ روز ایران میں 800 افراد کو پھانسی دی جانی تھی لیکن کسی کو پھانسی نہیں دی گئی، اس کا بہت بڑا اثر پڑا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطہ کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کی قدر کرتے ہیں کل جن افراد کو پھانسیاں دی جانی تھیں اب ایرانی قیادت انہیں پھانسی نہیں دے گی۔
گرین لینڈ کے حمایتی ممالک پر بھی ٹیرف لگانے ٹرمپ کی دھمکی
واشنگٹن ۔ 17 جنوری (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اگر دیگر ممالک نے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی حمایت نہ کی تو وہ ان پر تجارتی ٹیرف عائد کر سکتے ہیں۔ گزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ کی اسٹریٹیجک جغرافیائی حیثیت اور معدنی وسائل امریکہ کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر امریکہ نے گرین لینڈ پر قبضہ نہ کیا تو قومی سلامتی میں بڑا خلا پیدا ہو جائے گا، اس معاملہ پر اِن کی ناٹو سے بات چیت جاری ہے۔ اس معاملہ پر امریکی سنٹر کرس کونز کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں دیے گئے زیادہ تر بیانات محض بیان بازی ہیں اور حقیقت میں گرین لینڈ ایک اتحادی ہے، کوئی جائیداد نہیں۔ ادھر ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام کر سکتے ہیں۔ ڈنمارک نے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ گرین لینڈ میں ڈنمارک کی جوائنٹ آرکٹک کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل سورن اینڈرسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی توجہ امریکہ نہیں بلکہ ممکنہ روسی سرگرمیوں پر ہے، ناٹو اتحادیوں کے درمیان کسی فوجی تصادم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔