فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز سے امریکی صدر کو واقف کرادیا گیا‘رپورٹ میں انکشاف
واشنگٹن۔11؍جنوری ( ایجنسیز) امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں کے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے جس کے بعد تہران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور شروع کیا گیا ہے۔ یہ غور و فکر ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں کی جارہی ہے۔امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملوں کا ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے تاہم وہ ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین کو دبانے کی کوششوں کے ردعمل میں فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ کارروائی کا مقصد براہِ راست فوجی تنصیبات کے بجائے غیر فوجی اہداف ہو سکتے ہیں تاہم اس حوالے سے حتمی حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی۔یاد رہے کہ ایران میں پُرتشدد مظاہرے تیرہویں روز بھی جاری ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 15 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک معروف امریکی جریدے ٹائم میگزین نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 217 تک پہنچ چکی ہے۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں ایرانی قیادت کو خبردار کر چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکہ سخت ردعمل دے گا۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران ماضی کے مقابلے میں آج زیادہ آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے اور امریکہ اس کی حمایت کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران میں جاری مظاہروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ضرورت پڑی تو ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے، ایسی صورتِ حال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کئی برسوں سے حکومتی ظلم کا شکار رہے ہیں اور اب ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔صدر ٹرمپ نے اس سے قبل بھی خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہوگا۔امریکی صدر کے مطابق ایران کے بعض شہروں میں مظاہرین نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور حکومت کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
