ابوظہبی: امریکہ کے دو بمبار طیارں نے گذشتہ روز مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کی فضائوں میں پرواز کی۔ امریکی حکام کا کہنا ہیکہ یہ پروازیں خطے میں ایرانی مداخلت کے خلاف تہران کے لیے واضح پیغام ہیں کہ اگر ایران نے خطے میں کسی قسم کی تخریبی کارروائی کی کوشش کی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی طیاروں نے کل جمعرات کے روز خلیجی پانیوں پر اڑانیں بھریں۔ یہ ایک ماہ کے دوران امریکی جنگی طیاروں کی دوسری پروازیں ہیں۔اس خطے پر دو ‘بی 52 ایچ اسٹریٹفریس’ طیاروں کی پروازایک مہینے سے بھی کم عرصے میں اپنی نوعیت کی دوسری پرواز تھی۔ یہ پروازیں امریکہ کے مشرق وسطی کے ساتھ جاری وابستگی کا اشارہ ہے۔ اگرچہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے افغانستان اور عراق سے ہزاروں فوجیوں کو واپس بلا لیا ہے۔مشرق وسطیٰ میں پرواز کرنے والے ‘بی 52’ جنگی طیارے روایتی اور جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عام طورپرامریکاکے چھوٹے جنگی طیارے ہی مشرق وسطیٰ میں پرواز کرتے رہے ہیں۔ ‘بی باون’ جیسے بمبار طیارے مشرق وسطی میں بہت کم پرواز کرتے ہیں۔ دشمنوں نے اپنے علاقے میں بمبار طیاروں کی پروازوں کے بارے میں اکثر شکایت کی اور انہیں اشتعال انگیزی قرار دیا جاتا رہا ہے۔