تہران 4 اپریل: ( ایجنسیز) مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے باعث عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہو چکی ہے، جس کا اثر خاص طور پر خام تیل اور گیس پر انحصار کرنے والے ممالک پر پڑا ہے۔ ہندوستان سمیت کئی ممالک توانائی کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ایرانی حکومت نے تازہ اعلان میں کہا ہے کہ ضروری سامان لے جانے والے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔ تاہم یہ اجازت مکمل طور پر غیر مشروط نہیں ہوگی، بلکہ متعلقہ جہازوں کو ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ اور مذاکرات کرنے ہوں گے۔ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلسل حملے جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی جانب جانے والے جہاز اس رعایت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ خلیج عمان کے بحری جہاز بھی اس میں شامل ہوں گے۔واضح رہے کہ 28 فروری کو ہونے والے حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو تقریباً بند کر دیا تھا۔ اس دوران صرف ان جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی جو ایران کے اتحادی یا غیر جانبدار تھے۔ اس بندش کے باعث دو ہزار سے زائد بحری جہاز متاثر ہوئے، جبکہ متعدد جہاز اب بھی آبنائے کے اطراف پھنسے ہوئے ہیں۔ گزشتہ ماہ حکومت ہند نے اپنے چند بحری جہازوں کو بحفاظت نکالنے میں کامیابی حاصل کی، تاہم کئی جہاز اب بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ادھر جنگ کے اثرات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایران کے ڈرون حملوں نے خلیجی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔ دوسری جانب امریکہ کو بھی فوجی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس سے خطے کی صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔