ایران کا امریکی طیارہ بردار جہاز ’ابراہم لنکن‘ کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ

,

   

نیویارک ۔ 13 مارچ (ایجنسیز) جمعرات کے روز ایک ایرانی بحری جہاز امریکی طیارہ بردار جہاز ’ابراہم لنکن‘ کے خطرناک حد تک قریب آگیا تھا اور جمعہ کے روز یہ دعویٰ کیا گیا ہیکہ اس امریکی جہاز کو ایرانی بحریہ نے نقصان پہنچایا جس پر امریکی افواج کو فائرنگ کرنا پڑی، یہ اطلاع سی بی ایس (CBS) نیوز نیٹ ورک نے دو امریکی حکام کے حوالے سے دی۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے دونوں حکام نے مزید کہا کہ امریکی بحریہ کے ایک جہاز نے مارک 45 فائیو انچ (Mark 45 5inch) نیول گن کے ذریعے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم کئی مرتبہ فائر کیے گئے گولے نشانے پر نہ لگ سکے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس کے بعد ہیل فائر میزائلوں سے لیس ایک ہیلی کاپٹر روانہ کیا گیا، جس نے ایرانی جہاز کو دو میزائل مارے۔ ایرانی جہاز اور اس کے عملے کی صورت حال ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے، جبکہ یہ واقعہ رواں ہفتے کے اوائل میں پیش آیا تھا۔امریکی تباہ کن بحری جہاز “سبروانس” اور “مائیکل مرفی” طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کے ہمراہ ہیں جو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی مدد کے لیے بحیرہ عرب میں موجود ہے۔ گذشتہ ہفتے تک میزائلوں سے لیس چھ دیگر تباہ کن جہاز بھی بحیرہ عرب میں کام کر رہے تھے۔ طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن مشرق وسطیٰ میں تعینات دو امریکی طیارہ بردار جہازوں میں سے ایک ہے۔ یہ جنگی گروپ جنوری کے آخر میں اس علاقہ میں پہنچا تھا جسے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عظیم بیڑے (Huge Fleet) کا نام دیا تھا۔ امریکی سنٹرل کمانڈ کے ترجمان کے مطابق فروری کے شروع میں ایک ایرانی شاہد 139 ڈرون ابراہم لنکن کے قریب جارحانہ انداز میں آیا تھا اور اس کی طرف غیر ضروری نقل و حرکت کی تھی۔
، جسے بعد میں ایک امریکی لڑاکا طیارے نے مار گرایا تھا۔
سینٹرل کمانڈ کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکی افواج 90 سے زائد ایرانی جہازوں کو نقصان پہنچا چکی ہیں یا انہیں تباہ کر چکی ہیں۔