ایران کا تیل بردار بحری جہاز شام کے ساحل پر پہنچ گیا

   

Ferty9 Clinic

دبئی ۔یکم ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک ایران کا تیل بردار بحری جہاز جس کا امریکہ نے پورے بحرقلزم میں تعاقب کیا تھا اتوار کے دن سست رفتار ہوکر شام کے ساحل پر لنگرانداز ہوگیا جہاں امریکہ کے ایک اعلیٰ سطحی سفارت کار نے الزام عائد کیا کہ ایران کے انکار کے باوجود اس پر لدا ہوا مال اتارلیا جائے ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے کیونکہ امریکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے نیوکلیئر معاہدہ سے دستبردار ہوچکا ہے حالانکہ اس نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے دستبرداری کے عوض اس پر عائد تحدیدات کی برخاستگی کا تیقن دیا تھا اور معاہدہ کے بعد برخواست بھی کردی تھیں لیکن دوبارہ عائد کردی گئیں ۔ وزیر خارجہ ترکی نے ایک مرحلہ پر تجویز پیش کی تھی کہ تیل بردار بحری جہاز کو لبنان کے ساحل پر لنگرانداز ہونا چاہیئے لیکن لبنان کے عہدیداروں نے اس کی اجازت دینے سے انکار کردیا امریکہ نے تمام ممالک کو انتباہ دیا ہے کہ وہ امریکی سفارتکار کے 21لاکھ بیارل خام تیل مالیتی 130ملین امریکی ڈالر منتقل کرنے کی اجازت نہ دیں ۔ امریکہ نے بحری تیل بردار جہاز کے کیپٹن پر تحدیدات عائد کردی ہیں اور جہاز پر بھی تحدیدات عائد کرنے کا ارادہ رکھتاہے۔