یروشلم/تہران،31 مارچ (یواین آئی )مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے اس وقت سنگین رخ اختیار کر لیا جب ایران کی جانب سے وسطی اسرائیل پر میزائلوں کی برسات کر دی گئی۔ اس حملے کے نتیجے میں اسرائیل کے متعدد شہر لرز اٹھے ، جبکہ دوسری جانب ایرانی فضائی دفاعی نظام نے اصفہان کے قریب ایک جدید ترین امریکی ساختہ ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔عرب اور اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایرانی میزائلوں کے ملبے گرنے سے تل ابیب اور اس کے گردونواح میں شدید نقصان ہوا ہے ۔ اسرائیلی ایمبولینس سروسز نے تصدیق کی ہے کہ گُش دان کے علاقے میں ملبہ گرنے سے 6 افراد زخمی ہوئے جبکہ بنی براک میں میزائل حملوں کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوئے ۔تل ابیب کے قریبی ٹاؤن میں ملبہ گرنے سے 4 افراد زخمی ہوئے ، جبکہ متعدد گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے تاکہ ملبے تلے دبے ممکنہ افراد کو نکالا جا سکے ۔تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، ایرانی فوج نے اصفہان کے فضائی حدود میں ایک جدید ترین ایم کیو نائن (MQ-9) ریپر ڈرون کو مار گرایا ہے ۔ اس ڈرون کی قیمت تقریباً 30 ملین ڈالرز بتائی جاتی ہے ۔ یہ ڈرون نگرانی اور درست ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ موجودہ تنازع کے دوران وہ اب تک مجموعی طور پر 146 ڈرونز مار گرا چکے ہیں۔اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران کے اندر بھی صورتحال کشیدہ ہے ۔ تہران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جس کے بعد حفاظتی اقدامات کے طور پر کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل کر دی گئی ہے ۔یہ حالیہ تصادم ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور بین الاقوامی برادری فوری جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے ۔