تہران ۔ 8 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ایران نے 2015 کے بین الاقوامی نیوکلیئر معاہدے کی ایک اور خلاف ورزی کرتے ہوئے اتوار کو زیادہ سے زیادہ یورینیم افزودہ کرنے کی مخصوص حد سے تجاوز کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس اعلان کے بعد ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی تعطل کے شکار عالمی نیوکلیئر معاہدے کو مکمل خاتمے سے بچانا چاہتا ہے تاہم اس حوالے سے انھوں نے یورپی ممالک سے اپنے وعدے پورے نہ کرنے کا شکوہ بھی کیا۔امریکہ اس بین الاقوامی نیوکلیئر معاہدے سے 2018 میں دستبردار ہو گیا تھا، جس کے بعد ایران پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگلے چند گھنٹوں میں ایران یورینیم کو 3.67 فیصد ارتکاز کی سطح پر افزودہ کرنا شروع کر دے گا۔ اور ایسا کرنے کا مقصد بوشہر پاور پلانٹ کے لیے ایندھن کی فراہمی ہو گا۔نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اگر اس بین الاقوامی معاہدے کے باقی فریقین بشمول چین، فرانس، جرمنی، روس اور برطانیہ نے اپنے وعدے کے مطابق ایران کو امریکی پابندیوں سے بچانے کے لیے کچھ نہ کیا تو ایران ہر دو ماہ بعد اس معاہدے پر دی گئی اپنی کمٹمنٹ سے پیچھے ہٹتا جائے گا۔
