برسلز : یورپی یونین کمیشن جمعہ کو ایک ویڈیو کانفرنس میں ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے میں امریکہ کی واپسی پر غور کر رہا ہے۔ یورپی یونین کے خارجی امور کے نمائندے جوزف بوریل کے مطابق اس کانفرنس کے دوران نیوکلیئر معاہدے میں ’امریکہ کی ممکنہ واپسی‘ اور تمام فریقین کی طرف سے ’معاہدے پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد‘ پر بات چیت کی جائے گی۔ ان مذاکرات میں مشترکہ جامع منصوبہ بندی (جے سی پی او اے) معاہدے میں شامل برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس جیسے ممالک بھی شامل ہوں گے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے پہلے ہی معاہدے میں واپسی کا اشارہ دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ تہران بھی اس کی حمایت کرے گا۔دریں اثناء امریکہ نے یورپی یونین اور ایران کے درمیان سن 2015 کے نیوکلیئر معاہدے پر بات چیت کا خیر مقدم کیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کے مطابق یہ پیشرفت واضح طور پر ایک مثبت قدم ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر تہران جے سی پی او اے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل کرے، تو واشنگٹن بھی اس کے لیے تیار ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان نیوکلیئر معاہدے پر براہ راست بات چیت کے لیے ملاقات پر ابھی اتفاق کرنا باقی ہے اور فریقین فی الحال یورپی یونین کے ذریعے رابطے میں ہیں۔