ایران کی امریکہ کیساتھ براہِ راست مذاکرات کی تردید

   

تہران ۔ 30 مارچ (ایجنسیز) ایران نے امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تردید کر دی۔ اس حوالے سے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہوئی، پیغامات ثالثوں کے ذریعے پہنچائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو بھیجی گئی تجاویز زیادہ تر غیر حقیقت پسندانہ، غیر معقول اور حد سے زیادہ تھیں، خوش آئند ہے کہ علاقائی ممالک امن کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ صورتِ حال کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنا ضروری ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ یوکرین تنازعہ کو امریکہ اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے جوڑنا تباہ کن غلط فہمی ہے، لبنان میں ایرانی سفیر بیروت میں اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اپنے نیوکلیر عزائم ترک نہ کیے تو اسے مستقبل میں اپنے ملک سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ایران بالآخر اپنے نیوکلیر پروگرام سے دستبردار ہو جائے گا اور افزودہ مواد امریکہ کے حوالے کرے گا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران اس وقت بری طرح کمزور ہو چکا ہے اور نیوکلیر ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے گا۔ دریں اثناء امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کے کئی اہم ٹھکانوں کو ’ختم یا مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا ہے ۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر کہا کہ ایران میں بڑا دن۔ ہماری عظیم فوج نے کئی دیرینہ مطلوب اہداف کو ختم اور تباہ کر دیا ہے ۔ تاہم انہوں نے نہ تو تفصیلی معلومات دیں اور نہ ہی اہداف کی نشاندہی کی۔ایک متعلقہ پیش رفت میں، لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یو این آئی ایف آئی ایل) نے پیر کے روز اعلان کیا کہ 29-30 مارچ کی رات العدچت القُصیر میں ایک گولا پھٹنے سے اقوام متحدہ کا ایک امن دستہ اہلکار ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔ یو این آئی ایف آئی ایل نے امن اہلکار کی قومیت کا ذکر نہیں کیا۔ اس نے یہ بھی نہیں بتایا کہ گولا کس نے فائر کیا تھا۔یو این آئی ایف آئی ایل نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو برقرار رکھیں اور ایسی کارروائیوں سے گریز کریں جو امن اہلکاروں کو خطرے میں ڈالتی ہوں، نیز ہر وقت اقوام متحدہ کے عملے اور املاک کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ یو این آئی ایف آئی ایل کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امن اہلکاروں پر جان بوجھ کر کیے گئے حملے بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ یہ جنگی جرائم کے مترادف ہو سکتے ہیں۔