ایران کی جوہری تنصیب، مغربی دنیا کو تشویش

   

تہران : سیٹیلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر میں فردو کے جوہری پلانٹ پر جاری تعمیراتی کام پر عالمی طاقتوں کو تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ ماکسار ٹیکنالوجیز کی سیٹیلائٹ سے یہ تصاویر گیارہ دسمبر کو لی گئیں۔ایران نے ایک زیر زمین جوہری تنصیب کی تعمیر کا کام شروع کر دیا ہے۔ صوبے قم کے علاقے فردو میں اس تنصیب کی تعمیر ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں تہران اور واشنگٹن کے تعلقات میں کشیدگی بدستور جاری ہے۔ایران نے تاہم فردو میں زیر زمین جوہری تنصیب کی تعمیر کے بارے میں عوامی سطح پر اعتراف نہیں کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کی دریافت مغربی دنیا کی طرف سے 2009 میں ہوئی تھی اور اس طرح 2015 میں عالمی طاقتوں اور ایران کے مابین طے پائے جانے والے جوہری معاہدے کے پہلے دور سے پہلے ہی مغرب کی طرف سے فردو کی جوہری تنصیب کی نشاندہی کر دی گئی تھی۔ایران میں اس جوہری تنصیب کی تعمیر کا مقصد ہنوز واضح نہیں ہے تاہم اس پر کسی قسم کا کام امریکا کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کے صدارتی دور کے باقاعدہ آغاز سے پہلے اور سبک دوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی دور کے آخری دنوں میں نئی تشویش کو جنم دے گا۔گذشتہ جولائی میں ایران میں نطنز جوہری تنصیب کے مقام پر ایک پراسرار دھماکا ہوا تھا۔ ایران نے اسے تخریب کاری کی کوشش قرار دیا تھا۔امریکہ کے مڈل بری انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹیڈیز سے منسلک ‘ہتھیاروں کے عدم پھیلا کے تحقیقی شعبے کے ماہر جیمیز مارٹن کہتے ہیں، ’’اس سائٹ پر ہونے والی کسی قسم کی تبدیلی کو ایران کے جوہری پروگرام کی سرگرمیوں کا اشارہ سمجھا جائے گا اور اس سے یہ اخذ کیا جائے گا کہ تہران کا جوہری پروگرام کسی سمت بڑھ رہا ہے۔فردو کے مقام پر تعمیر کا کام ستمبر میں شروع ہوا تھا۔