ایران کی طرف بڑی فورس بھیجی جارہی ہے: ٹرمپ

   

واشنگٹن، 23جنوری (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی طرف بڑی فورس بھیجی جارہی ہے ۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ ایک (آرمڈابحری بیڑہ) ایران کی طرف بھیج رہا ہے ، لیکن مجھے امید ہے کہ اسے استعمال نہیں کرنا پڑے گا۔ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بہت سے جہاز اس سمت جا رہے ہیں، صرف احتیاط کے طور پر، میں تو کچھ ہونے نہیں دینا چاہتا، لیکن ہم ان پر بہت گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم کچھ بھی غلط ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے ، ایران کے معاملات کو بغور دیکھ رہے ہیں، میں نے گزشتہ جمعرات کو 837 افراد کی پھانسیاں رکوائی ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ مخالفین کو پھانسی دینا زمانہ قدیم کی روایت ہے ، میں نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر انھیں پھانسی دی گئی تو ایران پر ایسا وار کیا جائے گا جو پہلے کبھی نہیں ہوا، ایران نے میرے انتباہ پر پھانسیاں روک دیں، اب ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے ہم بھی تیار ہے ۔دوسری جانب امریکی حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور کئی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ پہنچیں گے ۔حکام نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اضافی ایئر ڈیفنس سسٹمز بھی بھیجنے پر غور کیا جا رہا ہے ، جو ایرانی حملوں سے امریکی اڈوں کی حفاظت کیلئے اہم ہوسکتے ہیں۔

ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے ، ہم بھی تیار ہیں:ٹرمپ
واشنگٹن، 23جنوری (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے ہم بھی بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ اپنے ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا ایران کی طرف بڑی فورس بھیجی جا رہی ہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے مزید کہا امریکی فوجی اثاثے مشرق وسطیٰ منتقل ہو رہے ہیں، گرین لینڈ کی سکیورٹی پر ناٹو کے ساتھ مل کر کام کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا اپریل میں چین کا دورہ کریں گے اور سال کے اختتام پر چینی صدر امریکہ آئیں گے ۔ بولے زیلنسکی اور پیوتن دونوں معاہدہ کرنا چاہتے ہیں،جلد معلوم ہو جائے گا۔

ٹرمپ کے ہاتھ پر چوٹ کے نشان کی نئی تصاویر
واشنگٹن ۔ 23 جنوری (ایجنسیز) جمعرات کو ڈونالڈ ٹرمپ کے ہاتھ پر تازہ چوٹ کی تصاویر پر لوگوں کو حیرت ہوئی لیکن 79 سالہ امریکی صدر نے اپنی صحت کے حوالے سے نئی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بس میز پر ہاتھ لگ جانے کی وجہ سے چوٹ آئی۔ٹرمپ کو گذشتہ سال وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے دائیں ہاتھ پر بارہا چوٹوں کے ساتھ دیکھا گیا ہے جو وہ اکثر پٹی اور میک اپ سے چھپاتے ہیں۔وائٹ ہاؤس نے کہا ہیکہ اس کی وجہ بار بار مصافحہ کرنا اور اسپرین ہے جو وہ اپنے دل کی صحت کیلئے لیتے ہیں۔ اس وجہ سے خراشیں آ سکتی ہیں۔تاہم سوئٹزرلینڈ کے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کی تصاویر میں جمعرات کو اسی جگہ لیکن اس بار ٹرمپ کے بائیں ہاتھ پر گہرے زخم کا نشان نظر آیا۔عالمی اقدام بورڈ آف پیس کی افتتاحی تقریب میں لی گئی یہ تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئیں۔صدارتی طیارہ ایئر فورس ون میں صحافیوں نے جب چوٹ کے بارے میں پوچھا تو ٹرمپ نے مزید کہا کہ مجھے میز سے چوٹ لگ گئی۔ میں کہوں گا، اگر آپ کو اپنا دل عزیز ہے تو اسپرین لیں لیکن اگر آپ تھوڑی سی خراش نہیں چاہتے تو نہ لیں۔سابقہ وضاحت دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے قبل ازیں کسی بھی زخم کے خدشات کو نظرانداز کر دیا تھا۔

وہ تصویر جس نے امریکہ کو عالمی سطح پر شرمندہ کیا
واشنگٹن، 23 جنوری (یو این آئی) امریکہ میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی ایک تصویر دنیا بھر میں امریکیوں کیلئے شرمندگی کا باعث بن گئی۔ اس تصویرکی اشاعت کے بعد ملک بھر میں شدید ردِعمل کا اظہار کیا جارہا ہے ، مذکورہ تصویر میں ایک 5 سالہ بچے کو پری اسکول سے واپسی پر آئی سی ای کی حراست میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے افسران نے بچے کے والد کو پکڑنے کیلئے حربے کے طور پر مینی سوٹا میں اسکول سے گھر جانے والے ایک پانچ سالہ بچے کو حراست میں لیا ہوا ہے ۔ تصویر میں ننھا بچہ لیام کونیخو راموس سردی سے بچنے کیلئے نیلی ٹوپی پہنے ، کندھوں پر اسپائیڈر مین کا بیگ لٹکائے خوفزدہ حالت میں کھڑا ہے ، جبکہ اس کے پیچھے مکمل سیاہ فوجی لباس میں ملبوس ایک اہلکار جس کا چہرہ نقاب سے ڈھکا ہوا ہے ، بچے کے بیگ کو مضبوطی سے پکڑے کھڑا نظر آرہا ہے ۔ لیام اب ان تقریباً 68 ہزار افراد میں شامل ہے جنہیں امریکی امیگریشن حکام نے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران حراست میں لیا ہے ، تاہم اس کیس کو اس لیے غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ زیرِ حراست شخص محض پانچ سال کا بچہ ہے ۔ اسکول سپرنٹنڈنٹ زینا اسٹینوک کے مطابق امیگریشن اہلکاروں نے بچے کو گھر کا دروازہ کھٹکھٹانے کو کہا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اندر کوئی اور موجود ہے یا نہیں، بعد ازاں بچے کا مڈل اسکول میں پڑھنے والا بھائی گھر پہنچا تو والد اور چھوٹا بھائی موجود نہیں تھے ۔ مقامی تاجروں کے مطابق خوف کے باعث متعدد تارکینِ وطن خاندان گھروں تک محدود ہوگئے ہیں، جبکہ رضاکار تنظیمیں خوراک اور ادویات کی فراہمی میں ان کی مدد کر رہی ہیں۔

ایران میں انٹرنیٹ پر پابندی کے دو ہفتے مکمل
تہران ۔ 23 جنوری (ایجنسیز) ایک نگراں ادارے نے جمعرات کو بتایا کہ ایران میں حکام کی جانب سے پورے ملک میں انٹرنیٹ کی بندش کو دو ہفتوں سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے۔انسانی حقوق کے کارکنان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش کا مقصد حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے حقیقی پیمانے اور ہلاکتوں کو چھپانا ہے۔”ایران اب پورے دو ہفتوں سے انٹرنیٹ کی ملک گیر بندش کی زد میں ہے،” نیٹ بلاکس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا۔حالیہ دنوں میں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ کافی صارفین کبھی کبھار اور وقفے وقفے سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں لیکن نگراں ادارے نے اشارہ کیا کہ یہ بہت مختصر مدت کیلئے اور حکومت کی منظور شدہ سائٹس اور ٹریفک تک محدود تھا۔ادارے نے کہا، “336 گھنٹوں کے بعد انٹرنیٹ رابطے کی سطح میں صرف معمولی اضافہ ہوتا ہے جس سے حکومتی منظور شدہ سائٹس تک رسائی ممکن ہوتی ہے ورنہ زیادہ تر بند رہتا ہے۔ ادارے نے مزید کہاکہ بعض صارفین اب بیرونی دنیا تک رسائی کے قابل ہیں” لیکن اس کیلئے استعمال ہونے والے ذرائع کی وضاحت نہیں کی۔