صدرونیزویلا نکولس مادورو بھی امریکی پابندیوں کی زد میں ۔امریکہ کے ساتھ سبھی قیدیوں کے تبادلہ کیلئے تیار ہیں:ایران
واشنگٹن ؍ تہران : امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کی وزارت دفاع اور اس کے نیوکلیئر اور روایتی ہتھیاروں کے پروگرام سے وابستہ افراد پر نئی پابندیاں عاید کردی ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے صدر ٹرمپ کی قومی سلامتی کی ٹیم کے دوسرے ارکان کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں ایران کے خلاف ان نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کے خلاف بھی نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ان کے خلاف یہ پابندیاں ان کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کے الزام میں عاید کی گئی ہیں۔مائیک پومپیو نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ گذشتہ قریباً دو سال کے دوران میں تہران کے بدعنوان عہدیدار وینزویلا کے غیرقانونی نظام کے ساتھ کام کررہے ہیں اور انھوں نے اقوام متحدہ کی ایران پر اسلحہ کی پابندی کو بھی تیاگ دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے آج کے اقدامات ایک انتباہ ہیں اور اس کو دنیا بھر میں سنا جانا چاہیے۔امریکہ ان نئی پابندیوں کے حصے کے طور پر آج ایک انتظامی حکم نامہ بھی جاری کررہا ہے۔اس کے تحت جو کوئی بھی ایران سے روایتی ہتھیار خرید کرے گا، یا اس کو یہ ہتھیار فروخت کرے گا تو وہ امریکی پابندیوں کی زد میں آجائے گا۔ امریکہ ایران کی وزارت دفاع اور اس کے ہتھیاروں کے پروگراموں سے وابستہ شخصیات کے خلاف نئی پابندیاں عاید کرکے ایک طرح سے اپنے یورپی اتحادیوں، چین اور روس کو بھی خبردار کررہا ہے اور انھیں باور کرارہا ہے کہ اگر ان کی کمپنیاں اور افراد ایرانیوں کے ساتھ کاروبار کریں گے تو وہ امریکی پابندیوں کی زد میں آئیں گے۔
نیز ٹرمپ انتظامیہ ان کی مخالفت کے باوجود ایران کے خلاف دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہے گی۔امریکی حکام یہ الزام عاید کرتے چلے آرہے ہیں کہ ایران 2015ء میں چھے عالمی طاقتوں سے طے شدہ نیوکلیئر سمجھوتے کے باوجود نیوکلیئر ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے مئی 2018ء میں اس نیوکلیئر سمجھوتے سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہوگئے تھے اور انھوں نے اس کے بعد ایران کے خلاف پے درپے سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں جس کے نتیجے میں اس کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے۔امریکہ کی یہ نئی پابندیاں صدر ٹرمپ کی ایران کیخلاف دباؤ برقرار رکھنے اور اس کو دیوار سے لگانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ اسی ضمن میں امریکہ کی ثالثی میں گذشتہ ہفتے ایران کے دو ہمسایہ ممالک متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔ ان معاہدوں کے نتیجے میں ایران کے خلاف ایک طرح سے ایک وسیع تر اتحاد معرض وجود میں آیا ہے۔اس دوران یران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پیر کے روز کہا کہ ایران ، امریکہ کے ساتھ تمام قیدیوں کے تبادلہ کرنے کے لئے تیار ہے ۔ایران کی خبررساں ایجنسی کے مطابق جواد ظریف نے یہ بات نیویارک میں خارجہ تعلقات سے متعلق کونسل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہی۔قابل غور ہے کہ ڈسمبر 2019 ء میں ایران نے امریکہ کے ساتھ دو قیدیوں کا تبادلہ کیا تھا جس میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار ایک امریکی شہری بھی شامل تھا۔
