ایران کی پابندیوں میں توسیع عرب اور امریکہ کے مفاد میں

,

   

جنیوا۔ اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع کا انتہائی احتیاط سے جائزہ لے۔تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت ایران پر اسلحہ خریدنے کی پابندی ہے جس کی مدت رواں سال اکتوبر میں ختم ہو رہی ہے۔ اس قرارداد کے ذریعے سال 2015 میں ایران کے جوہری پروگرام پر کیے گئے معاہدے پر عمل درآمد کروانا تھا۔ سعوی عرب کے مستقل مندوب نے کہا کہ اس پابندی کی مدت میں توسیع ہی درست اور محتاط کام ہے جو عالمی برادری کو ایران کی سرگرمیوں پر ردعمل میں دکھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر پابندیوں میں توسیع امریکہ اور سعودی عرب دونوں کے مفاد میں ہے۔عبداللہ المعلمی نے یہ بات اس وقت کی جب بدھ کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو گذشتہ برس سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور ایئرپورٹ پر میزائل حملوں کے حوالے سے پیش کی گئی رپورٹ پر بریفنگ دی گئی۔ اس رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ سعودی عرب پر حملوں میں استعمال ہونے والے میزائل ایرانی ساختہ تھے۔سعودی عرب کے مستقل مندوب نے کہا کہ ان کا ملک ایران کی جانب سے سنگین خلاف ورزیوں پر سلامتی کونسل کی توجہ مبذول کرواتا رہا ہے۔عبداللہ المعلمی نے کہا کہ ایران یمن میں حوثی ملیشیا کی مدد سے سعودی عرب میں شہری آبادی پرکئی حملے کرچکا ہے جو اقوام متحدہ کی اس قرارداد کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت حوثیوں کو اسلحے کی فراہمی پر پابندی عائد ہے۔سعودی مندوب نے کہا کہ یہ ایران کا طریقہ کار ہے کہ وہ خطے میں بدامنی اور شورش پھیلانے کے لیے ایسے گروپس کی مدد کرتا ہے، خواہ وہ یمن میں ہوں، لبنان، شام یا عراق میں۔انہوں نے کہا کہ یہ تصورکیا جا سکتا ہے کہ جب اکتوبر میں یہ پابندی اٹھائی گئی تو ایران مزید کیا کچھ کرے گا۔ عبداللہ المعلمی نے کہا کہ حال ہی میں خلیج عرب میں کیے گئے حملوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران ایک مستقل خطرہ ہے۔ ہم نے تمام ترحملوں اور اشتعال دلانے کے باوجود انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور ہر ممکن کوشش ہوگی کہ آئندہ بھی ضبط سے کام لیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ ایران کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے برائن ہک نے بھی ریاض کے اپنے حالیہ دورے میں سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیوکا یہ پیغام دہرایا تھاکہ ایران سے پابندیاں اٹھانے کا مطلب ہوگا کہ اس کو اپنے غیرقانونی کاموں کو جاری رکھنے کا لائسنس دیا جائے۔