واشنگٹن: 22 فبروری ( ایجنسیز ) مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اور بحری طاقت بڑھانے کے باوجود ایران کی جانب سے ہتھیار نہ ڈالنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مایوس دکھائی دیتے ہیں۔امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ان سے سوال کیا کہ اتنے دباؤ اور خطے میں بحری طاقت کی موجودگی کے باوجود ایران ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیوں نہیں کر رہا۔اسٹیو وٹکوف کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بھی پوچھا کہ ایران یہ کیوں نہیں کہتا کہ اسے ہتھیار نہیں چاہئیں، جبکہ امریکہ خطے میں اپنی عسکری موجودگی میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار ہو چکے ہیں، تاہم اب تک کوئی بڑی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔دوسری جانب امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی طاقت مزید بڑھا رہا ہے اور اطلاعات کے مطابق ایک اور امریکی طیارہ بردار بحری جہاز بھی خطے کی طرف بڑھ رہا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سفارتی راستہ اب بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان برقرار ہے۔
یورپی یونین کے رکن ممالک کی افواج دہشت گرد:ایران
تہران، 22 فروری (یو این آئی) ایران نے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے ۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدام یورپی یونین کے ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کو دہشت گرد تنظیم اعلان کرنے کے حالیہ فیصلے کے جواب میں کیا گیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کا فیصلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے ۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت نے یہ جوابی کارروائی 2019 کے قانون کے تحت کی ہے ۔ اس قانون کے مطابق، وہ تمام ممالک جو کسی بھی طرح سے آئی آر جی سی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے امریکی فیصلے کی تعمیل یا حمایت کرتے ہیں، انہیں بھی اسی طرح کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ یورپی یونین کی کونسل نے گزشتہ ماہ وزرائے خارجہ کے درمیان سیاسی معاہدے کے بعد جمعرات کے روز باضابطہ طور پر ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا۔ اس فہرست میں شمولیت سے یورپی یونین کی انسداد دہشت گردی کی پابندیاں عائد ہوتی ہیں، جن میں دہشت گرد اعلان کردہ تنظیم کے فنڈ، دیگر مالیاتی اثاثوں یا یورپی یونین کے رکن ممالک میں اقتصادی وسائل کو منجمد کرنا شامل ہے ۔ یورپی یونین کا یہ اقدام حالیہ دنوں میں مغربی ایشیائي خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آیا ہے ، جہاں امریکہ اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے اور ایران کے خلاف ممکنہ فوجی حملوں کے بارے میں بارہا خبردار کر چکا ہے ۔