نیو یارک ، 21 جون (یواین آئی) بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کے چیف رافائیل گروسی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران کے بوشہر پلانٹ کو نشانہ بنایا تو تباہی ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے بوشہر ایٹمی بجلی گھر پر اسرائیلی حملہ خطے میں ایک تباہی کا باعث بن سکتا ہے ، کیونکہ دونوں ممالک مسلسل آٹھویں دن سے ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائیل گروسی نے کہا ہے کہ بوشہر کا معاملہ انتہائی تشویش ناک ہے ۔ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں گفتگو کر رہے تھے ۔ گروسی نے مزید کہا کہ بوشہر پر کسی بھی حملے کے نتیجے میں انتہائی خطرناک سطح کا شعاعی اثر (ریڈیائی ایکٹیویٹی) پیدا ہو گا۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ نطنز میں افزودگی کے مرکز پر برقی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ساتھ ہی یہ اطمینان بھی دلایا کہ اصفہان میں تاب کاری کی سطح میں اضافے کی کوئی اطلاع ہمیں موصول نہیں ہوئی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے جمعہ کے روز اجلاس میں کہا کہ اگر یہ تنازعہ وسیع ہوا تو دنیا ایسی آگ کی لپیٹ میں آ جائے گی جس پر قابو پانا ممکن نہیں ہو گا، اس لیے فوری اور سنجیدہ مذاکرات کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے ۔ انھوں نے سلامتی کونسل میں اپنے خطاب میں کہا کہ ہم ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں، ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ گوٹیرس نے مزید کہا کہ دنیا اس وقت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے ، اور ہم سب پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔
گوٹیرس نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازعہ میں شامل تمام فریقوں سے اپیل کی کہ “امن کو ایک موقع دیا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ میرا ایک سادہ اور واضح پیغام ہے ، تمام متنازعہ فریقوں اور ممکنہ طور پر تنازع میں شامل ہونے والوں سے کہ … امن کو موقع دیں۔ یہ بات گوٹیرس نے بالواسطہ طور پر امریکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہی، جو اسرائیل کی فوجی مدد پر غور کر رہا ہے ۔