ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ‘ اسرائیلی و امریکی حملہ میںاہل خانہ کی بھی موت

,

   

l سپریم لیڈر کی دختر ‘ داماد اور نواسی ‘ بہو ‘ پوتا اور پوتی بھی لقمہ اجل ۔ ملک بھر میں 40 روزہ سرکاری سوگ ‘ 7 روزہ تعطیل
l اسرائیلی کارروائی میں رہبر اعلیٰ کے 7 اہم اور اعلیٰ کمانڈرس کی بھی شہادت ۔ سابق صدر احمدی نژاد بھی حملے میں جاں بحق
l رہبر اعلیٰ کی شہادت کا انتقام لیا جائے گا ۔ حکومت ایران کا انتباہ ۔ دنیا کے سربراہان حکومت کا اظہار رنج سے گریز

محمد مبشرالدین خرم
تہران۔یکم مارچ : عالم اسلام کیلئے ایک افسوسناک خبر میں یہ توثیق ہوچکی ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی باطل طاقتوں نے زندگی کی آخری سانس تک ظلم کے آگے سینہ سپر رہنے والے مرد مجاہد کوبزدلانہ کارروائی میں شہید کردیا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای جو 36برسوں سے ایران کے رہبر اعلیٰ تھے کی شہادت کے متعلق امریکی صدر نے اپنے ٹوئیٹ کے ذریعہ دنیا کو مطلع کیا تھا لیکن ایران نے ہندستان کے معیار وقت کے مطابق صبح کی اولین ساعتوں میں توثیق کی کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہفتہ کی علی الصبح کاروائی میں شہید کردیاگیا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے ساتھ ہی عالمی سطح پر جغرفیائی ‘ سیاسی حالات نے رخ تبدیل کرنا شروع کردیا ہے اور مغربی ممالک کے علاوہ یوروپی ‘ خلیجی ممالک اور اسرائیل ایران کے امکانی ردعمل سے خوف کے سائے میں نظر آئے ۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی اطلاع کے ساتھ ہی ایران کے بیشتر شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور دعائیہ اجتماعات منعقد کئے گئے ۔ شیعہ مرجع آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی توثیق کے ساتھ ہی حکومت ایران نے مشہد میں بارگاہ امام رضا پر سیاہ پرچم لہرایا جبکہ عراق میں نجف اشرف و کربلا معلی میں بھی آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا اعلان کیاگیا۔ ایرانی میڈیاکی تفصیلی خبروں میں بھی انکشاف کیا گیا کہ مرجع کے ساتھ بعض کمانڈرس اور ان کے بیٹی ‘ داماد ‘ بہو‘ پوترے اور پوتری کے علاوہ نواسے بھی جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے دوران آیت اللہ خامنہ ای نے معزول شہنشاہ رضا شاہ پہلوی کو اقتدار سے بے دخل کرنے جدوجہد میں سرگرم حصہ لیا تھا اور 1979 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کی ایران واپسی پر ان کا پرتپاک خیر مقدم کرنے والوں میں وہ شامل تھے۔ 1989 میں آیت اللہ روح اللہ امام خمینی کی رحلت کے بعد انہیں سپریم لیڈر کی ذمہ داری دی گئی تھی جو کہ ایران کے رہبر اعلیٰ کا عہدہ ہے جس پر وہ فائز تھے۔ امریکہ و اسرائیل نے ہفتہ کی علی الصبح کی گئی کاروائی کے دوران زائد از 30میزائل حملوں کے ذریعہ آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کو مکمل تباہ کردیا تھا ۔رہبر اعلیٰ کے ٹوئیٹر یعنی X اکاؤنٹ کے ذریعہ جو آخری پوسٹ کی گئی تھیں ان کے بعدکہا جارہاتھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی موت کی خبریں جھوٹی ہیں لیکن اتوار کی صبح کی اولین ساعتوں میںان کی شہادت کی توثیق کے ساتھ ہی دنیا کے کئی ممالک میں عوامی احتجاج شروع ہوگیا جس میں ایران کے مختلف شہروں اصفہان‘ زنجان‘ مشہد ‘ تہران ‘ انقلاب اسکوائر و مختلف مقامات پر لاکھوں لوگ جمع ہوگئے اور احتجاج کرنے لگے ۔اس کے علاوہ عراق‘ پاکستان‘ ہندستان کے مختلف شہروں میں بھی آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر زبردست احتجاج کیا گیا ہے۔ ایران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق نگہبان شوریٰ جو کہ سپریم لیڈر کے انتخاب کی مجاز ہے نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی توثیق کے بعد یہ کارگذار سپریم لیڈر کے طور پر آیت اللہ علی رضا عارفی کو منتخب کرنے کا اعلان کیا جو کہ سپریم لیڈر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی توثیق کے ساتھ ہی حکومت ایران نے اعلان کیا کہ خامنہ ای کی شہادت کا انتقام لیا جائیگا اور اسرائیل اور امریکہ دونوں کو اس کارروائی پر افسوس کرنا پڑے گا ۔ ایرانی حملوں میں جاں بحق ہونے والوں میں ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد بھی شامل ہیں جو اپنے کچھ محافظین اور رفقاء کے ساتھ ہلاک ہوگئے ۔ ان کی خانگی قیامگاہ کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔ اس دوران دنیا کے کئی سربراہان حکومت نے رہبر اعلیٰ کی شہادت پر فوری ردعمل سے گریز کیا ہوا ہے کیونکہ سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ آیت اللہ خامنہ ای زندہ اس قدر خطرناک ثابت نہیں ہوسکتے تھے جس قدر انہیں شہید کرکے خطرناک بنا دیا گیا ۔ایرانی میڈیا کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں سپریم لیڈر اس وقت نشانہ بنے جب وہ اپنے دفتر میں سرکاری فرائض انجام دے رہے تھے ۔ ملک میں 40دن کا سوگ اور 7 روزہ تعطیل کا اعلان کیا گیا ۔ اسرائیل اور امریکہ نے کل تہران سمیت کئی شہروں پر حملہ کیا گیا تھا۔ اسرائیلی حملے میں ایران کے 7 سینئر افسران بھی مارے گئے ہیں۔اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے فوجی ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر بمباری کی جس کے نتیجہ میں ایران کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ ان فضائی حملوں میں ایرانی دفاعی قیادت کے 7 سینئر افسران مارے گئے ہیں۔ اسرائیل حملے میں ہلاک افسران میںعزیز نصیر زادہ‘ یہ ایران کے وزیر دفاع ہوا کرتے تھے۔ سب سے پہلے انہی کی شہادت کی خبر میڈیا میں سامنے آئی ۔محمد پاکپور‘ وہ آئی آر جی سی کے طاقتور کمانڈر اِن چیف کی ذمہ داری سنبھال رہے تھے۔ علی شامخانی‘ سپریم لیڈر کے قابل بھروسہ مشیر تھے۔ محمد شیرازی‘ سپریم لیڈر کے ملٹری بیورو کے ماہر کی ذمہ داری نبھا رہے تھے ۔صالح اسدی‘ انٹیلی جنس نیٹ ورک کے ماسٹر مائنڈ۔حسین جبل عاملیان‘ ایس پی این ڈی کے سربراہ۔رضا مظفری نیا‘ ایس پی این ڈی کے سابق سربراہ اور جوہری پروگرام کے اہم اسٹریٹجسٹ۔ ان 7 سینئر عہدیداروں کی شہادت پر اسرائیلی فوج نے کہا کہ لڑاکا طیاروں نے فوجی ٹھکانوں پر حملہ کر کے ان 7 اعلیٰ رینکنگ والے دفاعی افسران کو ختم کر دیا ہے۔