ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کا قطعی مرحلہ جاری: امریکہ

   

واشنگٹن : امریکہ نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے سے متعلق ایران کے ساتھ ہونے والی بالواسطہ بات چیت ’حتمی مراحل‘ میں ہے۔عرب نیوز نے اے ایف پی اور روئٹرز کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ’یہ درحقیقت ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے جس میں ہم یہ فیصلہ کرنے کے قابل ہو جائیں گے کہ آیا ہم 2015 کے جوہری معاہدے پر مشترکہ عمل درآمد کریں گے۔‘دوسری جانب ایران کے سرکردہ مذاکرات کار علی باقری نے جمعرات کو اپنی ایک ٹویٹ میں اس بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی طاقتوں کو ’حقیقت کا ادراک اور عدم دلچسپی کے رویے سے گریز کرنے کے ساتھ ساتھ گذشتہ چار برسوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔‘اس وقت عالمی طاقتیں ایران اور امریکہ کے درمیان 2015 کے اس معاہدے کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہی ہیں جسے سابق امریکی صدر ڈنالڈ ٹرمپ نے 2018 میں ختم کر دیا تھا۔رواںہفتہ کے شروع میں فرانسیسی وزیر جین یویس لا ڈرین نے سینیٹ میں بتایا کہ ’اب یہ ہفتوں نہیں بلکہ دنوں کا مسئلہ ہے اور اس طویل عمل میں حققیت پسندی کا لمحہ ہے۔‘ ’ہمیں ایران کی جانب سے سیاسی فیصلوں کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے پاس چوائس بالکل واضح ہے۔