واشنگٹن ۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے نیوکلیر معاہدہ میں واپسی کے لیے آئندہ ہفتے ویانا میں بالواسطہ مذاکرات کے ارادے اور پابندیاں اٹھانے کے امکانات سے متعلق اعلان کے بعد امریکہ میں تنقیدی رد عمل کی لہر سامنے آئی ہے۔ نیوکلیر معاہدہ میں واپسی کے مسئلے نے امریکیوں کے بیچ تنقید کا وسیع باب کھول دیا ہے۔ ریپبلکن سینیٹر ٹوم کوٹن نے نیوکلیر معاہدہ کی جانب واپسی کی خاطر واشنگٹن کی کوششوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ دو ماہ بعد بائیڈن انتظامیہ ناکام سمجھوتے کی طرف واپسی کے لئے اس حد تک شدید مایوسی کا شکار ہو گئی کہ اس نے اپنے تمام تر نفوذ سے دست بردار ہوتے ہوئے ایرانی نظام کے سامنے ذلت آمیز انداز سے رعائتیں پیش کر دیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران میں امریکہ اور ایران نے دم توڑے ہوئے نیوکلیر معاہدہ کو پھر سے زندہ کرنے کی خاطر وساطت کاروں کے ذریعہ سفارتی کوششیں کیں تاہم وہ ناکام رہیں۔ نیویارک ٹائمز اخبار کے مطابق اس سلسلے میں ایک امریکی ذمے دار نے بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ ایران کی جانب سے اس تجویز پر آمادہ ہو گئی ہے کہ حقیقی بات چیت سے قبل ابتدائی موافقتوں کو سامنے آنا چاہئے۔ ذمہ دار کے مطابق تہران نے بعض پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کیا جس کے مقابل وہ بعض نیوکلیر اقدامات کو منسوخ کرے گا جو مشترکہ جامع عملی منصوبے (نیوکلیر معاہدہ) سے متصادم ہیں۔ یہ ان کا خیال تھا اور ہم نے اس تجویز کو منظور کر لیا۔ تاہم سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں قومی سلامتی کونسل میں ایرانی وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی روک تھام کے سابق ڈائریکٹر رچرڈ گولڈبرگ نے حالیہ مذاکرات کے دور رس نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر یہ رپورٹیں درست ہیں تو پھر بائیڈن انتظامیہ دہشت گردی کی شقوں کے تحت ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیشکش کر رہی ہے۔ یعنی کہ نہایت محدود نیوکلیر دست برداری کے مقابل اربوں ڈالر سے نواز دینا۔