ایران کے ساتھ پانی کا تنازعہافغان طالبان نے سیکڑوں خودکش بمبار تیار کرلیے

   

قندھار: مئی کے وسط میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے طالبان کو ایک انتباہ جاری کیا تھا کہ ’’وہ افغانستان کے ایران پانی کے معاہدے کا احترام کریں ورنہ نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوجائیں‘‘۔طالبان کی ایک معروف شخصیت نے جواب میں 20 لیٹر پانی کے کنٹینر کا مضحکہ خیز تحفہ پیش کیا تھا اور ان سے کہا کہ وہ خوف ناک الٹی میٹم دینا بند کردیں۔ قریباً ایک ہفتہ بعد سرحد پر جھڑپ ہوئی جس میں دو ایرانی محافظ جبکہ طالبان کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔اس معاملے سے آگاہ ایک شخص کے مطابق طالبان نے ہزاروں فوجی اور سیکڑوں خودکش بمبار علاقے میں بھیجے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کے لیے تیار ہیں۔دو دہائیوں تک امریکا کے ساتھ لڑنے کے بعد، طالبان رہ نما اب اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ جھگڑوں میں الجھ رہے ہیں۔گلوبل وارمنگ کے حقائق ملک کو متاثر کر رہے ہیں۔ کم ہوتے آبی وسائل پر ایران کے ساتھ تنازع پہلے سے ہی غیر مستحکم خطے کو مزید غیر مستحکم کررہا ہے۔ایک غیر منافع بخش تنظیم انٹرنیشنل کرائسز گروپ میں افغانستان کے بارے میں سینیر کنسلٹنٹ گریم اسمتھ کا کہنا ہے کہ دریائے ہلمند کے طاس میں پانی کی قلت موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے کیونکہ ملک گرم ہو رہا ہے اور شدید بارشوں اور اس کے بعد شدید خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 1950 کے بعد سے ملک میں درجہ حرارت میں 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے۔ایران نے 1973 میں افغانستان کے ساتھ ایک معاہدے پر دست خط کیے تھے جس کے تحت اس کو افغانستان سے دریائے ہلمند سے ’نارمل‘ ماحول کے حالات میں سالانہ مقررہ مقدار میں پانی مہیا کرے گا، یہ ایک ہزار کلومیٹر (620 میل) سے زیادہ آبی گذرگاہ ہے جو افغان ہندوکش کے پہاڑوں سے ملک اور ایران تک جاتی ہے۔افغانستان کے سب سے طویل دریا کا پانی زراعت کے لیے انتہائی اہم ہے اور سرحد کے دونوں جانب لاکھوں افراد اس کا استعمال کرتے ہیں۔ایران کا موقف ہے کہ طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد پانی کی ترسیل میں کمی کی ہے اور وہ اس معاملے میں افغانستان کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے گذشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’’ہلمند سے پانی پر ایران کے حقوق کے حوالے سے طالبان حکومت کے ساتھ ابتدائی معاہدہ طے پا چکا ہے‘‘۔ 2021ء میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے ملک کے غریب ترین صوبہ سیستان،بلوچستان کے دورے کے موقع پر کہا:’’میری باتوں کو سنجیدگی سے لیں۔ میں افغانستان کے حکام اور حکمرانوں کو متنبہ کرتا ہوں کہ وہ سیستان کے عوام کے پانی کے حقوق کا احترام کریں‘‘۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مئی میں کہا تھا کہ رئیسی کا بیان نامناسب ہے اور اس سے تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ وزیر خارجہ امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف خشک سالی کی وجہ سے ہوا ہے اور افغانستان معاہدے کا احترام کرتا ہے۔