تہران، 28 اگست (یو این آئی) ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں چھاپے کے دوران جھڑپ میں 13 جنگجو ہلاک اور پاسدارانِ انقلاب کا ایک اہلکار جاں بحق ہوگیا۔ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘13 دہشت گرد مارے گئے جبکہ متعدد کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ کارروائیاں سیستان بلوچستان میں ہوئیں جہاں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پرتشدد جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ ریاستی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے بعض جمعہ کو ایرانشہر میں ہونے والے اس حملے میں ملوث تھے جس میں 5 پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔ ایرانشہر کے علاوہ خاش اور سراوان میں بھی سیکیورٹی آپریشنز کیے گئے ۔ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر حسن مرتضوی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ‘آپریشن کے دوران بدقسمتی سے ہمارا ایک اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘ایک مغوی شہری کو بازیاب کرا کے اس کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔سیستان بلوچستان طویل عرصے سے سیکیورٹی فورسز اور مسلح گروہوں، بشمول منشیات اسمگلرز اور علیحدگی پسندوں کے درمیان جھڑپوں کا مرکز رہا ہے ۔ سنی بلوچ اکثریتی آبادی پر مشتمل یہ صوبہ ایران کے غریب ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے ۔