خلیج میں جنگ کے اثرات شدید ، کویت ایرپورٹ جل اٹھا، یو اے ای میں ایک شہری ہلاک
کویت سٹی ۔ یکم ؍ اپریل (ایجنسیز) ایران کی جانب سے کیے گئے تازہ ڈرون اور میزائل حملوں نے خلیجی ممالک کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جبکہ ایک شخص کی ہلاکت بھی رپورٹ ہوئی ہے۔کویت میں حکام کے مطابق بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا جہاں ایندھن کے ٹینکوں پر ڈرون حملوں کے بعد شدید آگ بھڑک اٹھی۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن کے ترجمان عبداللہ الرجحی نے کہا کہ فوری طور پر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم مالی نقصان ہوا ہے۔بحرین کی وزارت داخلہ نے بھی ایک کمپنی کے احاطے میں آگ لگنے کی تصدیق کی ہے جسے ایرانی جارحیت کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ حکام کے مطابق سول ڈیفنس کی ٹیمیں آگ بجھانے میں مصروف ہیں جبکہ مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔قطر کے قریب سمندر میں ایک آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ دوحہ کے قریب راس لفان صنعتی علاقے کے شمال میں ہوا۔ قطر کی وزارت دفاع نے بتایا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے تین کروز میزائلوں میں سے دو کو تباہ کر دیا گیا جبکہ ایک میزائل ٹینکر سے ٹکرا گیا۔ خوش قسمتی سے جہاز کے تمام 21 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر لیا گیا۔متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کے علاقے الرفاع میں ایک ڈرون کو تباہ کرنے کے بعد اس کے ٹکڑے ایک فارم پر گرے جس کے نتیجے میں ایک بنگلہ دیشی شہری ہلاک ہوگیا۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔سعودی عرب نے بھی متعدد ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے اور بتایا ہے کہ تمام ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری فضائی کارروائیوں کے جواب میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور جنگ اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے باعث عرب دنیا کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور مجموعی پیداوار میں 3.7 سے 6 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جو 120 ارب سے 194 ارب ڈالر تک نقصان کے برابر ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکہ جلد اس جنگ سے نکل سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ایران نے امریکی جنگ بندی منصوبے کو غیر معقول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا بلکہ مستقل امن کا خواہاں ہے، ساتھ ہی اس نے ہونے والے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔