اسرائیلی دفاعی نظام ایران کے آگے بے بس، 89 ہلاکتیں، 19 جنگی طیارے تباہ، جملہ 73 طیاروں کو نقصان
حیدرآباد ۔ 18 مارچ (سیاست نیوز) ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو 18 دن مکمل ہوگئے لیکن ایران نے صرف ایک جوابی کارروائی کے ذریعہ اسرائیل پر جو قہر ڈھایا ہے وہ صیہونی مملکت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے۔ ایران نے کامیاب جنگی حکمت عملی کے ذریعہ ایک طرف اسرائیل کی فوجی اور دیگر اہم تنصیبات کو تباہ کردیا تو دوسری طرف معیشت پر کاری ضرب نے اسرائیل کو معاشی بحران کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔ ایران کے بالسٹک میزائل حملوں کے آگے اسرائیلی دفاعی نظام ناکام ثابت ہوا اور ماہرین کے مطابق 17 مارچ کی ابتدائی ساعتوں میں تل ابیب کے مضافات میں واقع بن گورین انٹرنیشنل ایرپورٹ پر حملہ اسرائیل کے معاشی زوال کا آغاز ثابت ہوا۔ بین الاقوامی میڈیا کے اسرائیلی پابندیوں کے باوجود ایرانی حملوں کی کامیابی اور اسرائیل میں قیامت خیز تباہی کے حقائق کو آشکار کیا ہے۔ ایران نے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے بجائے اسرائیل کی معیشت میں اہم مرکز بن گورین ایرپورٹ پر 12 بالسٹک میزائلز داغے اور تمام میزائلز اپنے اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔ محض 4 منٹ کے وقفہ میں 12 بالسٹک میزائلز نے ایرپورٹ کو تباہ کردیا۔ 89 افراد کی ہلاکت اور 234 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ 4 میزائلز 4 ایرکرافٹ پارکنگ ایریا، 2 میزائلز ٹرمنل III اور ایک میزائل ایر ٹریفک کنٹرول ٹاور پر گری جس کے نتیجہ اسرائیل کی معیشت کا اہم مرکز تباہ ہوگیا۔ بن گورین انٹرنیشنل ایرپورٹ پر حملہ کے بعد دنیا بھر سے اسرائیل کے تجارتی روابط منقطع ہوگئے اور یہ نقصان اسرائیل کی تاریخ کا اب تک کا تباہ کن ہے جس کی فوری تلافی ممکن نہیں۔ ایرپورٹ سے تمام سرگرمیاں ٹھپ ہوچکی ہیں جہاں سے سالانہ 20 ملین سے زائد مسافرین کی آمدورفت تھی۔ اسرائیل کیلئے یہ ایرپورٹ بزنس، کارگو، میڈیکل، ٹورازم ریونیو، فارن انوسٹمنٹ، ایمرجنسی سپلائی چین اور ملٹری لاجسٹک سرگرمیوں کا اہم ذریعہ تھا۔ بن گورین ایرپورٹ کا اسرائیل میں کوئی متبادل نہیں ہے۔ حیفہ میں ایرپورٹ ضرور ہے لیکن وہ بڑے انٹرنیشنل فلائیٹس کی آمد اور روانگی کی صلاحیت سے محروم ہے۔ ماہرین کے مطابق بن گورین ایرپورٹ کے رن وے کی بحالی کیلئے 4 تا 6 ماہ درکار ہوں گے۔ ٹرمنل کی بحالی کیلئے 18 ماہ لگ سکتے ہیں۔ ملبہ کی مکمل صفائی کیلئے 2 تا 3 ماہ لگ جائیں گے۔ جنوری 2027ء میں ایرپورٹ کی سرگرمیاں بحال ہوپائیں گی۔ اسرائیل کا انتہائی عصری دفاعی سسٹم بھی ایرانی حملوں کے آگے ناکام ثابت ہوا۔ ایرپورٹ کی حفاظت کیلئے 31 انٹرسپٹرس تعینات کئے گئے تھے لیکن ایران کے بالسٹک میزائلز کا راستہ روک نہیں پائے۔ 12 بالسٹک میزائل نے ایرپورٹ اور اطراف کے 120 اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایرانی میزائلز کی غیرمعمولی صلاحیت کے اسرائیلی فوجی ماہرین بھی معترف ہوگئے کیونکہ انٹرسپٹرس سسٹم ناکام ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق جملہ 73 طیارے تباہ ہوئے جس میں بوئنگ 7، ڈریم لائنر 87 اور لوینک 717 شامل ہیں۔ طیاروں کی تباہی سے 6.9 بلین ڈالر کے نقصان کا اندازہ ہے۔ یونائیٹیڈ ایرلائنس کے 7، لفتھانسا کے 5 ایر بیس ڈیلٹا کے 2 بوئنگ، برٹش ایرویز کے 3 طیاروں کے علاوہ ایرفرانس، ایمریٹس اور کے ایل ایم ترکیہ کے طیارے بھی تباہ ہوئے۔ اسرائیلی ایرفورس کے 19 جنگی طیاروں کی تباہی کی اطلاعات ہیں۔ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول اور بن گورین ایرپورٹ کی تباہی سے اسرائیل کے فضائی، بحری اور سڑک تینوں راستے تجارت اور رسد کیلئے متاثر ہوچکے ہیں۔ ایرپورٹ کی تباہی سے اسرائیل کو ہر ہفتہ 3 بلین ڈالر کا نقصان ہوگا۔ ٹورازم کو 450 ملین ڈالر، بزنس ٹراویل میں 200 ملین ڈالر اور کارگو آپریشن کے شعبہ میں 100 ملین ڈالر کے نقصان کا تخمینہ کیا گیا ہے۔ ایرپورٹ اگر 4 سال بند رہتا ہے تو اسرائیل کو 150 بلین ڈالر کے نقصان سے گزرنا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق بن گورین ایرپورٹ کی مکمل بحالی کیلئے کئی برس لگ جائیں گے اور ایران نے اسے تباہ کرتے ہوئے اسرائیل کی معاشی شہ رگ کو کاٹ دیا ہے۔1