ہائیکورٹ کی ڈویژن بنچ کی ہدایت ۔ جلد بازی نہ کرنے کا مشورہ ۔ چہارشنبہ کو آئندہ سماعت
حیدرآباد۔8جولائی (سیاست نیوز) چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس شمیم اختر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل رامچندر راؤ کو خود کو قابو میں رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ سیکریٹریٹ اور ایرم منزل کی عمارتوں کو تاحکم ثانی منہدم نہ کیا جائے ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے آج مختلف درخواستوں کی سماعت کے دوران حکومت کو ہدایت دی کہ وہ نئے سیکریٹریٹ کی تعمیر اور ایرم منزل کی جگہ نئی اسمبلی کی عمارت کی تعمیر کے سلسلہ میں مزید کوئی پیشرفت نہ کریں اور تا حکم ثانی عمارتوں کو منہدم کرنے سے اجتناب کریں۔ حکومت کے موقف کا عدالت میں دفاع کرر ہے ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت سے جواب داخل کرنے 15یوم کی مہلت طلب کی اور کہا کہ حکومت کی جانب سے ان درخواستوں کا جواب جلد داخل کیا جائیگا۔ عدالت نے مختلف جماعتوں ‘ تنظیموں اور غیر سرکاری اداروں کی درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ احکام جاری کئے ۔ حکومت کی جانب سے سیکریٹریٹ کی موجودہ عمارتوں کے انہدام اور ان کی جگہ نئی عمارتوںکی تعمیر اور ایرم منز ل کی تاریخی عمارت کو منہدم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے عوامی دولت کو ضائع کرنے کے مترادف قرار دیا تھا اور اس سلسلہ میں عدالت سے رجوع ہو کر عدالت سے مداخلت کی خواہش کی تھی ۔نواب فخرالملک کے ورثا نے بھی عدالت سے ایرم منزل کی تاریخی عمارت کو منہدم ہونے سے بچانے احکامات جاری کرنے کی خواہش کی تھی اوربتایا تھا کہ 150 سالہ قدیم ایرم منزل تاریخی اہمیت کا حامل ورثہ ہے اور حکومت کی جانب سے اس کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے نئی اسمبلی و سیکریٹریٹ کی عمارتوں کی تعمیر کے فیصلہ کے بعد چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے 27 جون کو دونوں عمارتوں کی تعمیر کیلئے بھومی پوجا کے بعد سنگ بنیاد رکھا تھا۔ حکومت نے سیکریٹریٹ کو منہدم کرکے 400 کروڑ کی لاگت سے نئی عمارتوں کی تعمیر اور 100 کروڑ کی لاگت سے نئی اسمبلی عمارت کی تعمیر کو منظوری دی تھی۔ چیف جسٹس راگھویندر چوہان اور جسٹس شمیم اختر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے تاحکم ثانی سیکریٹریٹ و ایرم منزل کو منہدم نہ کرنے کی ہدایت دی ۔ درخواست گذاروں کی جانب سے ایڈوکیٹ رماکانت ریڈی‘ رچنا ریڈی اور دیگر نے پیروی کی ۔ چیف جسٹس نے مقدمہ کی آئندہ سماعت 10جولائی چہارشنبہ مقرر کی ہے ۔
