ایم جی بس اسٹیشن۔ فلک نما اور ایل بی نگر سے متبادل منصوبہ کی تیاری پر زور، جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔ 13 ڈسمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے حیدرآباد میٹرو لائن پراجکٹ، اس کی توسیع کے منصوبوں اور دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے یہ معلوم کرنے کی خواہش کی کہ جی او 111 ایریا کے ذریعہ آؤٹر رنگ روڈ کو ایرپورٹ میٹرو سے کیسے مربوط کیا گیا جبکہ وہاں ترقیاتی کام کی گنجائش کم ہے اور آؤٹر رنگ روڈ کی صورت میں اچھی ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ شہر کے آبادی کا بڑا حصہ وسطی، مشرقی حصوں اور پرانے شہر میں رہتا ہے لہذا مہاتما گاندھی بس اسٹیشن۔ فلک نما اور ایل بی نگر علاقہ سے ایرپورٹ تک میٹرو لائن کو ترجیح دی جانی چاہئے تھی تاکہ عام شہریوں کی بڑی تعداد کو سہولت ہوسکے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ شہر کو ہر سمت میں مساوی ترقی دی جانی چاہئے۔ حیدرآباد شہر میں جغرافیائی اعتبار سے عالمی شہر کے طور پر ابھرنے کی بھرپور صلاحیت ہے۔ تلنگانہ میں پہلے ہی 40 فیصد شہریانے کا عمل ہوچکا ہے اور اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ حیدرآباد شہر کا اس طرح منصوبہ تیار کیا جانا چاہئے جس میں ابتدائی طور پر تقریباً 2 کروڑ کی آبادی کی گنجائش ہو جبکہ قطعی مرحلہ میں یہ تقریباً 3 کروڑ آبادی والا شہر ہو۔ انہوں نے کہا کہ آؤٹر رنگ روڈ کے اطراف سٹیلائٹ ٹاؤن شپس کو فروغ دیا جائے اور ان سٹیلائٹ ٹاؤن شپس کو قابل دسترس اور تیزی سے جوڑنے میں میٹرو ٹرین اہم رول ادا کرسکتی ہے۔ چیف منسٹر نے موجودہ ایرپورٹ الائنمنٹ پلان اور اس کے ٹنڈر کو روکنے کی سینئر عہدیداروں کو ہدایت دی ساتھ ہی انہوں نے مہاتما گاندھی بس اسٹیشن ۔ فلک نما اور ایل بی نگر برائے چندرائن گٹہ متبادل الائنمنٹ کی تیزی سے تیاری کی ہدایت دی۔ انہوں نے حیدرآباد میٹرو ریل کے ایم ڈی کو کفایتی متبادل منصوبہ کی تیاری کی ہدایت دی جو میلاردیوپلی، جل پلی اور P7 روڈ یا براہ بارکس ۔ پہاڑی شریف اور سری سیلم روڈ ہو۔ چیف منسٹر نے کندکور کے قریب میگھا ٹاؤن شپ کے لئے اراضی کے منصوبہ کا بھی مشورہ دیا۔ انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا آلودگی پھیلانے والی فارما سٹی حیدرآباد کے قریب نہیں ہونا چاہئے۔ پرانے شہر میں 5.5 کیلو میٹر میٹرو ریل کی عدم تکمیل پر انہوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے تمام امور کی تحقیقات کی بھی ہدایت دی۔ انہوں نے سینئر عہدیداروں کو حیدرآباد کو لاجسٹک اور میڈیکل ہب میں تبدیل کرنے کا مشورہ دیا۔ اس موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا اور دوسرے موجود تھے۔