منیجنگ ڈائرکٹر ٹی ایس آر ٹی سی کی حکومت کو سفارش
حیدرآباد ۔ /21 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے محکمہ کیلئے اے سی بسوں کی فراہمی سے عملاً انکار کردیا ہے ۔ نقصان سے دوچار اس ادارے کے نئے منیجنگ ڈائرکٹر نے اے سی بسوں کے اخراجات کی پابجائی میں دشواریوں کو بیان کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے سفارش کی ہے کہ وہ الیکٹرک اے سی بسوں کے بجائے بغیر ایرکنڈیشن والی الیکٹرک بسوں کی مرکز سے سفارش کرے ۔ ملک بھر میں الیکٹرک بسوں کے استعمال میں اضافہ کرنے کیلئے مرکزی حکومت کی جانب سے انتھک کوششیں جاری ہیں جس کے تحت فم (فاسٹر اڈاپشن اینڈ مینوفیکچرنگ آف ہائبریڈ اینڈ الیکٹریک وہیکل ) اسکیم کا آغاز کیا گیا ۔ اور سبسیڈی پر ریاستوں کو الیکٹرک بسیں فراہم کی جارہی ہیں ۔ ایک بس کی قیمت تین کروڑ ہونے کے باوجود اخراجات سے پریشان ریاستوں اداروں کو دیکھتے ہوئے خانگی افراد کی شمولیت کو منظوری دی گئی اور فی بس ایک کروڑ روپئے کی سبسیڈی دی جارہی ہے ۔ فم ایک تحت تلنگانہ کے لئے 40 اے سی بسوں کو منظور کیا گیا ۔ ان بسوں کو شہر کے مختلف علاقوں میں چلایا جارہا ہے ۔ ان اے سی بسوں کے سبب آمدنی کم ، خرچ زیادہ ہورہا ہے ۔ آر ٹی سی کی جانب سے اے سی بسیں ایرپورٹ کیلئے شہر کے مختلف علاقوں سے چلائی جاتی ہیں ۔ ان بسوں پر 80 لاکھ روپئے کے نقصانات آئے ہیں ۔ ٹی ایس آر ٹی سی کے ذرائع کے مطابق مئی اور جون میں کویڈ کے سبب بسوں کی خدمات کو روک دیا گیا تھا جبکہ اگست میں اے سی بسوں کے ذریعہ ایک کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی لیکن اخراجات ایک کروڑ 30 لاکھ ہوئے ۔ اس طرح ستمبر میں ایک کروڑ روپئے آمدنی اور خرچ ایک کروڑ (80) لاکھ اکٹوبر میں ایک کروڑ 30 لاکھ روپئے آمدنی ہوئی جبکہ اخراجات (2) کروڑ 10 لاکھ روپئے کے ہوئے ۔ اب جبکہ نئی 300 بسوں کو منظوری کا امکان ہے ۔ اس ضمن میں نان اے سی بسوںکی فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے نقصانات سے بچنے کی آر ٹی سی کوششیں کررہی ہے ۔ع