ایس آئی آر میں خصوصیت سے مغربی بنگال نشانہ : ممتابنرجی

,

   

چیف منسٹر مغربی بنگال سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کیخلاف اپنی عرضی کی سماعت میں خود حاضر ہوئیں

نئی دہلی، 4 فروری (یو این آئی) مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج سپریم کورٹ میں حاضر ہو کر الزام لگایا کہ انتخابات سے قبل ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی(ایس آئی آر) کے ذریعے ان کی ریاست کو ‘منتخب طور پر نشانہ’ بنایا جا رہا ہے ۔چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے خلاف ممتابنرجی کی درخواست پر سماعت کی۔ اس درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ موجودہ ایس آئی آر عمل سے بڑے پیمانے پر ووٹروں کا حق چھین لیا جائے گا۔ انہوں نے اسے ایک غیر شفاف، جلد بازی پر مبنی، غیر آئینی اور غیر قانونی عمل قرار دیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے عمل کو چیلنج کرنے والی ان کی رٹ پٹیشن پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیر تک جواب دینے کے لیے کہا۔ جیسے ہی کیس کی سماعت شروع ہوئی، سینئر ایڈووکیٹ گوپال شنکر نارائنن نے درخواست کی سنگینی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ معاملہ آئٹم نمبر 36 اور 37 کے طور پر درج نئے موضوعات سے متعلق ہے ۔جب عدالت نے اشارہ دیا کہ وہ جلد ہی اس معاملے کی سماعت کرے گی تو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی خود پوڈیم تک گئیں اور بنچ سے براہِ راست مخاطب ہونے کی استدعا کی۔ ممتا بنرجی نے دلیل دی کہ ”یہ ایس آئی آر کا عمل صرف نام نکالنے کے لیے ہے ۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ شادی کے بعد خاندانی نام تبدیل کرنے والی خواتین یا رہائش تبدیل کرنے والے غریب تارکینِ وطن جیسی سماجی حقیقتوں کی وجہ سے ہونے والی معمولی بے ضابطگیوں کی بنیاد پر حقیقی ووٹروں کے نام ہٹائے جا رہے ہیں۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ووٹروں کے نام ‘منطقی تضاد’ کی بنیاد پر ہٹا دیے گئے ، چاہے وہ تضاد صرف خاندانی نام یا ہجے کا معمولی فرق ہی کیوں نہ تھا۔ غریب لوگ جو کام کاج کے لیے باہر جاتے ہیں، ان کے نام بھی نکال دیے گئے ہیں۔ یہ نام ہٹانے کی وجہ کیسے ہوسکتی ہے ؟انہوں نے سیاسی طور پر نشانہ بنائے جانے کا الزام لگاتے ہوئے سوال کیا”چار ریاستوں میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ 24 سال بعد ہی کیوں؟ سب کچھ تین ماہ میں ختم کرنے کی یہ جلدی کیوں؟ بنگال ہی کیوں؟ آسام کیوں نہیں؟” ۔ انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ یہ عمل فصلوں کی کٹائی کے سیزن اور نقل مکانی کے عروج کے دور میں شروع کیا گیا ہے اور دعویٰ کیا کہ کام کے دباؤ کی وجہ سے 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور کئی بوتھ لیول آفیسرز دواخانوں میں داخل ہیں۔چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) نے اٹھائے گئے مسائل خاص طور پر مقامی بولیوں، بنگالی سے انگریزی میں ترجمہ اور یہاں تک کہ تضادات پیدا کرنے میں مصنوعی ذہانت(اے آئی) کے استعمال سے متعلق مسائل کا اعتراف کیا۔ چیف جسٹس نے تبصرہ کیا کہ اس قسم کے مسائل کی بنیاد پر، حقیقی ووٹرز کو (فہرست سے ) خارج نہیں کیا جانا چاہیے ۔انہوں نے اشارہ دیا کہ عدالت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے حل تلاش کرے گی کہ مستند ووٹروں کے نام فہرست میں موجود رہیں۔