ایس آئی آر ناقابل بھروسہ

   

پی چدمبرم
(سابق مرکزی وزیر داخلہ و فینانس)

سارے ملک میں فی الوقت الیکشن کمیشن اور اس کے اقدامات کو لے کر بحث و مباحث کا سلسلہ جاری ہے ،خاص طور پر بہار میں ایس آئی آر کے بارے میں اپوزیشن اور عوام میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے تحت 65 لاکھ رائے دہندوں کے نام حذف کردیئے ہیں۔ ایس آئی آر کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور گزشتہ ہفتے کے او ا خر میں ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کو دو ہدایات جاری کیں جس کے یقینا دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ پہلی ہدایت جو الیکشن کمیشن کو دی گئی ہے ، وہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اُن رائے دہندوں کی فہرست جاری کرے ،جن کے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہیں یعنی فہرست رائے دہندگان سے اُن کے نام حذف کردیئے گئے ہیں، اس ہدایت میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ وہ ان لوگوں کے نام حذف کیے جانے کی وجوہات بھی بتائے۔ عدالت عظمی نے جو دوسری اہم ہدایت الیکشن کمیشن کو دی ہے، وہ یہ ہے کہ ای سی فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کے خواہاں لوگوں کے آدھار کارڈ قبول کرے۔ ان دو ہدایات نے الیکشن کمیشن کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔ اب اسے نہ صرف حذف شدہ ناموں کی فہرست شائع کرنی ہوگی بلکہ وہ وجوہات بھی بتانی ہوگی جس کی بنیاد پر اس نے لاکھوں رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کردیئے ۔ بہرحال اس مقدمے کی سماعت جاری رہے گی ۔
معمول سے ہٹ کر اعداد و شمار: ایس آئی آر کے کچھ پہلو ایسے ہیں جو عدالتی نظر ثانی کے دائرے سے باہر ہیں لیکن وہ پہلو معمول سے ہٹ کر اور باعث تشویش ہے جس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی ۔پہلا پہلو اس کا نام ہے ۔سابق نظر ثانی کو اسپیشل یا سمری ریویژن کہا جاتا تھا دوسرا اہم پہلو وقت ہے ۔ ماضی میں کبھی بھی لوک سبھا یا ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات سے صرف اور صرف چار ماہ قبل اس طرح ایس آئی آر کی مشق پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس کا تیسرا اہم پہلو شیڈول ہے آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ یہ نظر ثانی صرف 30 دنوں میں مکمل کرلی گئی اور اس پر جو اعتراضات کیے جائیں گے یا دعوے پیش ہوں گے انہیں بھی اندرون 30 یوم نمٹا دیا جائے گا۔ اس کا چوتھا پہلو اس کا دائرہ ہے ۔ماضی میں گزشتہ کی فہرست سے رائے دہندگان کو بنیاد بنا کر یا مان کر اس میں ناموں کا اندراج یا اخراج یا حذف کیا جاتا تھا لیکن ایس آئی آر نے 2024 کی فہرست رائے دہندگان کو معتبر نہ سمجھتے ہوئے اُس سے پوری طرح نظر انداز کر دیا اور ریاست بہار کیلئے ایک نئی فہرست رائے دہندگان تیار کرنے کا دعویٰ کیا (ذریعہ سابق الیکشن کمشنر مسٹر اشوک لواسا)۔اس کا پانچواں پہلو عجیب و غریب انداز میں ناموں کو حذف کرنے پر زور اور اندراج پر معنی خیز خاموشی ہے ۔ایس آئی آر کی مشق کے نتیجے میں حیران کن اعداد و شمار منظر عام پر الیکشن کمیشن کے مطابق 7.89 کروڑ رائے دہندوں میں سے 22 لاکھ کی موت ہو چکی ہے 7 لاکھ افراد ایسے ہیں جن کے نام بحیثیت ووٹر مختلف مقامات پر درج ہیں جبکہ 36 لاکھ افراد مستقل طور پر دوسرے مقامات منتقل ہو چکے ہیں یا ان کا اتہ پتہ نہیں معلوم ہے۔
کوئی نہیں جانتا: جہاں تک پیدائش اور موت کا سوال ہے یہ فطری عمل ہے یہ بات بھی درست ہے کہ جو لوگ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ان کے نام فہرست سے حذف کیے جانے چاہیے لیکن کیا یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ وہ نوجوان لڑکے لڑکیاں جو ایک مقررہ تاریخ کو اپنی عمر کے 18 برس مکمل کر چکے ہوں کیا ان کے نام فہرست رائے دہندگان میں شامل کیے جانے چاہئے ایسے نوجوانوں کی تعداد لاکھوں میں ہوگی ان سوالات کے الیکشن کمیشن اف انڈیا نے کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی کسی کو اس بارے میں کوئی معلومات ہیں کہ الیکشن کمیشن نے یہ کیسے فیصلہ کر لیا کہ 36 لاکھ افراد مستقل طور پر دوسرے مقامات منتقل ہو گئے ہیں یا ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا الیکشن کمیشن نے گھر گھر جا کر سروے کیا ایا متعلقہ افراد نے خود تسلیم کیا کہ وہ ریاست بہار سے باہر دوسرے مقامات کو مستقل طور پر منتقل ہو چکے ہیں لیکن الیکشن کمیشن نے ان 36 لاکھ افراد کے بارے میں تحقیقات کی الیکشن کمیشن کب اور کیسے اور کیوں عدالتی سطح پر طے شدہ معیار عام رہائشی کو چھوڑ کر مستقل طور پر منتقل جیسی مبہم اصطلاح کو اپنایا اس بات کا کسی کو علم نہیں۔
ایس آئی آر میں معروضیت شفافیت الیکشن کمیشن کے دعووں کی تائید و حمایت کرنے والے ثبوت و شواہد اور دلائل کا فقدان پایا جاتا ہے ایسا لگتا ہے کہ ایس آئی آر پہلے ہی سے لگائے گئے اندازوں اور طے شدہ ایجنڈے کے مطابق شروع کیا گیا اور اس مشق کے ذریعے ان اندازوں کو درست اور متضاد قرار دینے کی کوشش کی گئی ایک ایسے ملک میں جس کی آبادی میں سالانہ 0.89 فیصد کے حساب سے اضافہ ہوتا ہے وہاں فہرست رائے دہندگان پر نظر ثانی کی صورت میں رائے دہندگان کی تعداد میں لازمی طور پر اضافہ ہوگا لیکن بہار میں ایس آئی آر کا تو مذکورہ حقیقت کے برعکس اثر مرتب ہوا ہے رائے دہندگان کی تعداد میں اضافے کی بجائے کمی واقع ہوئی ہے اس کا مطلب صاف صاف ہے کہ ایس آئی آر کا اصل مقصد حقیقی رائے دہندگان کو حق رائے دہی سے محروم کرنا ہے ایس آئی آر نے بہار کے لوگوں کے ذہنوں میں یہ خوف پیدا کر دیا ہے کہ ان میں سے لاکھوں لوگوں کا حق رائے دہی چھین لیا جائے گا بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد اگر ایس آئی آر کے عمل کو دوسری ریاستوں تک توسیع دی جاتی ہے تو اس کا نتیجہ لاکھوں حقیقی رائے دہندوں کے حق رائے دہی سے محرومی کی شکل میں نکلے گا۔