یو پی میں ووٹر لسٹ جانچ ۔نوٹس پانے والے ووٹروں کو سماعت کیلئے کم از کم سات دن کا وقت
نئی دہلی ۔ /13جنوری :(ایجنسیز) اتر پردیش میں ووٹر لسٹ کی جانچ کے عمل نے رفتار پکڑ لی ہے۔ اسپیشل انٹینسیو ریویڑن (SIR) کے تحت جن ووٹروں کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے نوٹس موصول ہو چکا ہے یا آئندہ موصول ہو سکتا ہے، ان کے لیے مقررہ دستاویزات پیش کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس عمل کا مقصد ووٹر لسٹ کو درست، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔ چیف الیکشن آفیسر نودیپ رِنوا کے مطابق نوٹس پانے والے ووٹروں کو سماعت کے لیے کم از کم سات دن کا وقت دیا جائے گا، تاکہ وہ اپنے کاغذات مکمل اور درست طریقے سے جمع کرا سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تعاون کرنے والے ووٹروں کا نام فہرست میں برقرار رکھا جائے گا۔ریاست میں 27 اکتوبر 2025 تک ووٹر لسٹ میں کل 15.44 کروڑ ووٹر درج تھے، تاہم حالیہ جانچ کے بعد 12.55 کروڑ ووٹروں پر مشتمل ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری کی گئی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں تقریباً 1.04 کروڑ ایسے نام سامنے آئے جو 2003 کی ووٹر لسٹ میں والدین یا بزرگوں کے اندراج سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ دوسرے مرحلے میں دو کروڑ پچاس لاکھ سے زائد ووٹروں کی تفصیلات میں خامیاں سامنے آئی ہیں، جس کے بعد انہیں باقاعدہ طور پر نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ دستاویزات جمع کرانے کی شرط ووٹروں کی عمر کی بنیاد پر مقرر کی گئی ہے۔ یکم جولائی 1987 سے قبل پیدا ہونے والے افراد کو صرف اپنی شناخت سے متعلق دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی، جن میں مارک شیٹ، پاسپورٹ اور پیدائش کا سرٹیفکیٹ سمیت مجموعی طور پر تیرہ اقسام کے کاغذات شامل ہیں۔وہ ووٹر جن کی پیدائش یکم جولائی 1987 کے بعد اور 2 دسمبر 2004 سے پہلے ہوئی ہے، انہیں اپنے ساتھ والد کے دستاویزات بھی فراہم کرنے ہوں گے، جبکہ 2 دسمبر 2004 کے بعد پیدا ہونے والوں کے لیے والد اور والدہ دونوں کے کاغذات لازمی قرار دیے گئے ہیں۔ نوٹس دو نقول میں جاری کیے جا رہے ہیں، جن میں مطلوبہ دستاویزات کی مکمل تفصیل درج ہوگی۔ حکام نے ووٹروں کو ہدایت دی ہے کہ فارم 6 بھرتے وقت اپنا نام ہندی اور انگریزی دونوں میں درست املا کے ساتھ درج کریں، تاکہ ووٹر لسٹ اور ووٹر کارڈ میں کسی قسم کی غلطی نہ ہو۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 67,276 افراد نے ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کے لیے فارم 6 جمع کرایا۔ ان میں 62,211 درخواستیں خود ووٹروں نے اور 5,065 درخواستیں سیاسی جماعتوں کے بی ایل اے کے ذریعے دی گئیں۔ اب تک مجموعی طور پر 18.14 لاکھ افراد فارم 6 کے ذریعہ ووٹر لسٹ میں اندراج کی درخواست دے چکے ہیں۔ الیکشن حکام کا کہنا ہے کہ یہ پوری مشق جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کے لیے ہے، تاکہ ہر مستحق شہری کا نام ووٹر لسٹ میں شامل رہے اور کسی نااہل اندراج کی گنجائش نہ ہو۔
