ایس آئی آر کا مطلب ووٹ چوری ،جنوبی ریاستوں میں احتجاج

,

   

بہار میں ایس آئی آر کے دور ان مسلمانوں ، دلتوں اور خواتین کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے گئے ، ڈی ایم کے کا دعویٰ

نئی دہلی :/28 اکٹوبر(ایجنسیز)الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اعلان کیا کہ ملک کی 12 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی، یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے مطابق، ان ریاستوں کی ووٹر لسٹوں کو پیر کی رات 12 بجے سے فریز کر دیا گیا ہے اور یہ عمل 4 نومبر سے باضابطہ طور پر شروع ہوگا۔ اس کے بعد حتمی فہرست فروری 2026 میں جاری کی جائے گی۔اس اعلان کے بعد جنوبی ریاستوں میں سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ تمل ناڈو، کیرالہ اور مغربی بنگال کی حکومتوں نے کمیشن کے فیصلے کو سیاسی سازش اور ووٹ کے حق پر حملہ قرار دیا ہے۔ تمل ناڈو کی حکمراں ڈی ایم کے پارٹی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا یہ قدم عوام کے بنیادی حقِ رائے دہی پر براہِ راست حملہ ہے۔ڈی ایم کے حکومت نے 2 نومبر کو اس معاملے پر آل پارٹی میٹنگ بلانے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ نومبر اور دسمبر کے دوران ریاست میں شمال مشرقی مانسون سرگرم رہتا ہے، ایسے وقت میں اتنی بڑی کارروائی کرنا غیر عملی اور غیر ذمہ دارانہ فیصلہ ہے۔ڈی ایم کے نے مزید کہا کہ بہار میں ایس آئی آر کے دوران مسلمانوں، دلتوں اور خواتین کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے تھے اور اسی طرز پر تمل ناڈو میں بھی ووٹر لسٹ میں چھیڑ چھاڑ کا خدشہ موجود ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ وہ اصلاح کے خلاف نہیں لیکن یہ عمل جلدبازی اور سیاسی دباؤ میں نہیں ہونا چاہیے۔ڈی ایم کے کے مطابق، چونکہ ریاست میں اپریل 2026 میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں، اس لیے اس وقت ووٹر لسٹ میں بڑی تبدیلیاں تشویش کا باعث بن سکتی ہیں۔مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس نے بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے پر اعتراض کیا ہے۔ پارٹی کے راجیہ سبھا رکن ڈیریک او برائن نے کہا کہ بہار میں جو ہوا وہ صرف ریہرسل تھی، اصل نشانہ بنگال ہے، لیکن بنگال کے عوام الیکشن کمیشن کو جواب دیں گے۔دوسری جانب کیرالہ میں مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) نے اس فیصلے کو یکطرفہ اور غیر جمہوری قرار دیا۔ سی پی ایم رہنما ایم اے بیبی نے کہا کہ جب بہار کے ایس آئی آر معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے تو الیکشن کمیشن کا یہ قدم جمہوری اقدار کی توہین ہے۔کیرالہ اسمبلی نے بھی اس فیصلے کے خلاف قرارداد پاس کی تھی مگر کمیشن نے کسی کی بات نہیں سنی۔ کیرالہ حکومت کی تشویش کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں جلد بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ تاہم چیف الیکشن کمشنر نے وضاحت کی کہ چونکہ کیرالہ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، اس لیے ایس آئی آر پر کوئی آئینی پابندی نہیں ہے۔پریس کانفرنس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت کمیشن کو انتخابی فہرستوں کی تیاری اور نظرثانی کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اپنا آئینی فریضہ ادا کر رہا ہے اور ریاستی حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ اس میں تعاون کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ نظم و نسق برقرار رکھنا ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور انہیں ووٹر لسٹوں کے جائزے اور انتخابات کے لیے عملہ فراہم کرنا آئینی تقاضہ ہے۔ گیانیش کمار نے واضح کیا کہ کمیشن کسی سیاسی دباؤ میں نہیں بلکہ شفاف اور درست ووٹر لسٹ کی تیاری کے لیے کام کر رہا ہے۔ایس آئی آر کے اثرات اتر پردیش میں ہونے والے پنچایت انتخابات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ریاست میں اپریل-مئی 2026 میں پنچایت چناؤ متوقع ہیں۔ اگرچہ اسمبلی اور پنچایت ووٹر لسٹیں الگ ہوتی ہیں، مگر انہیں تیار کرنے والا عملہ ایک ہی ہوتا ہے، جس سے انتظامی مشکلات بڑھنے کا امکان ہے۔اتر پردیش میں پہلے ہی یکم جنوری 2025 کے حوالے سے ووٹر لسٹ کی اپ ڈیٹ جاری ہے۔ پانچ دسمبر کو اس کا مسودہ شائع ہونا ہے اور 15 جنوری 2026 کو حتمی فہرست جاری کی جائے گی۔ ایسے میں ایس آئی آر کے اعلان سے یہ پورا انتخابی شیڈول متاثر ہو سکتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اتر پردیش میں کسی بڑی سیاسی جماعت نے ابھی تک اس فیصلے پر کوئی باضابطہ احتجاج نہیں کیا ہے۔ البتہ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ایکس پر لکھا، سب کو اس کے ووٹ کا حق دلوانا ہے، ہر ووٹ کا محافظ بن کر جمہوریت کو بچانا ہے۔