کولکتہ :/3 اپریل (ایجنسیز) اسمبلی الیکشن والے مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں پر خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر ) کیخلاف ضلع مالدہ کے شجاع پور میں پرتشدد احتجاجوں کے مبینہ سرغنہ ایڈوکیٹ مفکر الاسلام نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہیں بگڈوگرہ ایرپور ٹ سے گرفتار کیا گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ وہ ووٹروں کے نام حذف کرنے کے خلاف احتجاجوں میں شریک تھے۔انہیں شمالی بنگال کے ایرپورٹ سے جمعہ کو پولیس نے گرفتار کیا ۔بتایا جارہا ہے کہ وہ علاقہ سے فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے ۔ پولیس کا الزام ہے کہ ایس آر آر پر مالدہ میں تشدد کے پیچھے یہی ایڈوکیٹ کارفرما ہے ۔ مالدہ میں 7 عدالتی عہدیداروں کو ہجوم نے 9 گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا ۔ یکم اپریل کی شب پیش آئے تشدد پر سپریم کورٹ نے بھی ریاستی نظم و نسق کی سرزنش کی ہے ۔
مالدہ تشدد کے پیچھے منصوبہ بند سازش ، ممتا کا الزام
سلی گوڑی، 3 اپریل (یو این آئی) مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مالدہ ضلع میں کالی چک تشدد کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری کے چند گھنٹوں بعد جمعہ کو سخت سیاسی حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ ایک گہری اور پہلے سے منصوبہ بند سازش ہے ، جس کا مقصد بدامنی پھیلانا، اقلیتی برادری کو نشانہ بنانا اور اسمبلی انتخابات سے قبل ریاست کو بدنام کرنا ہے ۔ ممتابنرجی نے جنوبی دیناج پور کے ہری رام پور اور شمالی دیناج پور کے رائے گنج میں مسلسل ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس واقعہ جس میں ووٹر لسٹ کے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران عدالتی افسران کو گھیر لیا گیا اور بعد میں ان پر حملہ کیا گیا، باہر سے لائے گئے افراد کے ذریعے سیاسی حمایت کے ساتھ منظم کیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، انڈین نیشنل کانگریس، اے آئی ایم آئی ایم اور آئی ایس ایف نے مل کر اقلیتی برادری کے کچھ حصوں کو بھڑکایا۔ یہ جان بوجھ کر بدامنی پیدا کرنے اور بنگال کو بدنام کرنے کی کوشش تھی ساتھ ہی مرکزی ایجنسیوں کے ذریعے اقلیتوں کو ہراساں کرنے کا راستہ ہموار کرنا تھا، انہوں نے اور زور دے کر کہا کہ یہ سازش اب بے نقاب ہو چکی ہے ۔