ایس آئی آر کے بعد 9 ریاستوں اور مرکز ی علاقوں میں1.70 کروڑ ووٹرس کم ہوگئے

   

نئی دہلی ۔22؍فروری ( ایجنسیز )ہندوستان کی 6 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام کچھ علاقوں میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ اس دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس عمل میں بڑی تعداد میں ایسے ووٹروں کے نام حذف کئے گئے ہیں جو نااہل پائے گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 9 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹروں کی تعداد مجموعی طور پر 1 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ کم ہوگئی ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ حذف شدہ ووٹروں اور نئے شامل کیے گئے اہل ووٹروں کے درمیان فرق کی بنیاد پر یہ خالص تبدیلی ہے۔چیف الیکٹورل آفیسرکے اعداد و شمار کے مطابق گجرات، پڈوچیری، لکشدیپ، راجستھان، چھتیس گڑھ، انڈمان اور نکوبار جزائر، گوا اور کیرالا سمیت 9 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر شروع ہونے سے پہلے تقریباً 21.45 کروڑ ووٹرس کی تعداد تھی۔ حتمی ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد یہ تقریباً 19.75 کروڑ رہ گئی یعنی 1.70 کروڑ سے زیادہ ووٹر کم ہوئے۔ سب سے زیادہ نام گجرات میں حذف کئے گئے ہیں۔ یہاں 68 لاکھ 12 ہزار711 ووٹروں کو فہرست سے ہٹایا گیا ہے جس سے ووٹروں کی کل تعداد تقریباً 5.08 کروڑ سے کم ہو کر 4.40 کروڑ رہ گئی ہے۔ یعنی تقریباً 13.40 فیصد کی کمی درج ہوئی ہے۔ اس کے بعد مدھیہ پردیش آتا ہے جہاں تقریباً 34.25 لاکھ نام ہٹائے گئے اور ووٹروں کی تعداد 5.74 کروڑ سے گھٹ کر 5.39 کروڑ ہو گئی۔دیگر ریاستوں میں بھی بڑی تعداد میں ووٹوں کے نام حذف کردیئے ہیں۔ راجستھان میں تقریباً 31.36 لاکھ ووٹروں کے نام ہٹائے گئے جبکہ چھتیس گڑھ میں تقریباً 24.99 لاکھ اور کیرالا میں تقریباً 8.97 لاکھ نام کاٹے گئے۔ چھوٹی ریاستوں جیسے گوا میں تقریباً 1.27 لاکھ ناموں کو ہٹا دیا گیا۔ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں انڈمان اور نکوبار، پڈوچیری اور لکشدیپ میں بھی ووٹروں کی تعداد میں کمی درج کی گئی۔کمیشن نے بتایا کہ مغربی بنگال، اتر پردیش اور ٹاملناڈو کے اعداد و شمار اس ماہ کے آخر تک جاری کیے جائیں گے۔ ملک بھر کی 12 ریاستوں میں جاری عمل کا اگلا مرحلہ اپریل میں شروع ہوگا جس کے تحت پورے ملک میں ووٹر لسٹوں کی تصدیق کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس عمل کے دوران شیڈول میں کئی تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔ بہار کی طرح ہی ٹاملناڈو اور مغربی بنگال میں سیاسی جماعتوں نے اس عمل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ مہم ووٹر لسٹ کو درست اور اپ ڈیٹ رکھنے کے لیے کی جارہی ہے۔ آسام میں ایس آئی آر کی جگہ نظر ثانی کا خصوصی عمل اپنایا گیا تھا جو 10 فروری کو مکمل ہوچکا ہے۔