شاہی مسجد باغ عام میں مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی کا خطاب
حیدرآباد، 9 جنوری (راست) مولانا حافظ ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی امام و خطیب شاہی مسجد باغ عام نے کہا ہے کہ اسپیشل انٹنسیو ریویژن (ایس آئی آر) کا عمل تلنگانہ میں بھی عنقریب شروع ہوگا، اس سے غفلت برتنے کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں کیونکہ دیگر ریاستوں میں ایس آئی آر کے دوران لاکھوں نام ووٹر لسٹوں سے خارج کر دیے گئے۔اس سے قبل کہ کوئی مصیبت ہم پر بھی آئے، ہم پہلے سے اس کی تیاری کریں اور اس کے لیے ضروری سرکاری دستاویزات کو تیار رکھیں۔ متعلقہ اہلکاروں (BLOs) کے اپنے علاقے میں آنے کے وقت اور تاریخ سے باخبر رہیں ۔ ایس آئی ار کے فارم میں درج تمام تفصیلات، خصوصاً ناموں کے ہجوں اور دیگر امور کو انتہائی غور سے چیک کریں۔ اپنے ان رشتہ داروں کے ناموں کے اندراج میں بھی مدد کریں جو بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ مولانا احسن الحمومی نے اپنے خطاب میں سالِ نو کے اہداف اور مسلمانوں کے لیے چار نکاتی لائحہ عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ ایمان کی پختگی انسان کو سینکڑوں بیماروں سے نجات دلاتی ہے۔ انسان کسی پر شک کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ ہم اس نئے سال کے موقع پر کوشش کریں کہ ہم ہر لمحہ اپنے ایمان کو مضبوط کرتے رہیں اور اس کی کوشش میں لگے رہے کہ ہمارے ایمان کا درجہ بڑھتا رہے۔ اللہ پر مکمل یقین اور پختہ ایمان انسان کی زندگی میں سکون، اطمینان اور حوصلے کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے۔ اللہ پر یقین انسان کے کردار کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ ایسا انسان جھوٹ، فریب اور ناانصافی سے دور رہتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور ہر عمل کا حساب ہونا ہے۔ یہ احساسِ جواب دہی انسان کو ذہنی سکون دیتا ہے، کیونکہ وہ حلال راستے پر چل کر مطمئن رہتا ہے اور ضمیر کی خلش سے محفوظ رہتا ہے۔ اس طرح ایمان نہ صرف روحانی بلکہ ذہنی سکون کا بھی باعث بنتا ہے۔ حقیقی ترقی اور کامیابی محض کیلنڈر کے بدلنے سے نہیں، بلکہ گہرے غور و فکر، گزشتہ سال کے جائزے اور مستقبل کے لیے بامقصد لائحہ عمل اختیار کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کے لیے سب سے آسان اور مؤثر عمل یہ ہے کہ ہم پانچ وقتہ نمازوں کی پابندی کریں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ جو شخص سچے دل سے نماز ادا کرتا ہے وہ گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے دل میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ یہ تقویٰ ہی ایمان کی اصل روح ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کر دیتا ہے۔ مزید برآں، نماز انسان کو صبر اور حوصلہ عطا کرتی ہے۔ زندگی کے مسائل، پریشانیاں اور آزمائشیں نماز کے ذریعے آسان محسوس ہونے لگتی ہیں۔ اللہ کے سامنے جھک کر دعا کرنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے اور انسان کو روحانی سکون نصیب ہوتا ہے۔ الغرض، پانچ وقتہ نمازوں کی پابندی ایک ایسا عمل ہے جو ایمان کو مضبوط، دل کو مطمئن اور زندگی کو سنوار دیتا ہے۔ جو شخص نماز کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنا لیتا ہے، وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کی راہ پا لیتا ہے۔مولانا احسن الحمومی نے کہا کہ ہم قرآن سے تعلق مضبوط کریں۔ روزانہ کم از کم ایک رکوع ترجمے کے ساتھ پڑھنے کی عادت ڈالیں، کیونکہ قرآن پڑھنا اللہ سے ہمکلام ہونے کے مترادف ہے۔
