ایس آئی آر کے نام پر این آر سی کو نافذ کیا جا رہا ہے ۔ اکھیلیش یادو کا دعوی

   

Ferty9 Clinic

اترپردیش میں تین کروڑ ووٹرس کے نام حذف کرنے کی کوششیں۔ سماجوادی پارٹی سربراہ کا اظہار خیال
حیدرآباد 13 ڈسمبر(سیاست نیوز) ہندوستانی سیاست میں جمہوریت کی بقاء کے بجائے حکومت ہند اور الیکشن کمیشن SIR کے ذریعہ جمہوریت کو داغدار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ سماج وادی سربراہ اکھلیش یادو نے دورۂ حیدرآباد کے موقع پر اترپردیش میں SIR کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ملک کی سب سے بڑی آبادی والی ریاست جہاں 25 کروڑ لوگ ہیں ان میں 3 کروڑ رائے دہندوں کو SIR کے ذریعہ کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر اترپردیش میں 3 کروڑ ووٹرس کو فہرست رائے دہندگان سے خارج کیا جاتا ہے تو جمہوریت کا تحفظ کس طرح کیا جاسکے گا! اکھلیش یادو نے بتایا کہ وہ اپنے دورۂ حیدرآباد کے دوران مختلف قائدین سے ملاقات کرچکے ہیں اور ملک میں SIR کے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے۔ انہو ںنے SIR کو پچھلے دروازے سے NRC قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن ہندوستان بھر میں عوام کو اپنے دستاویزات جمع کروانے مجبور کر رہے ہیں اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو ملک کے حالات بگڑسکتے ہیں۔ اکھلیش یادو نے بتایا کہ اترپردیش میں جو انتخابی عملہ فہرست رائے دہندگان کی تنقیح کا کام کر رہا ہے وہ ڈیجیٹل دور کی عصری ٹکنالوجی سے واقف نہیں ہے اور انہیں عصری ٹکنالوجی کے استعمال کیلئے مجبور کیا جار ہاہے جو انتہائی تکلیف دہ ثابت ہونے لگا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ ملک میں جس طرح کی سرگرمیاں جاری ہیں ان سے ایسا لگ رہا ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت نہیں آمرانہ طرز حکمرانی جاری ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ عوام اٹھ کھڑے ہونگے اور مرکزی حکومت کی من مانی کے خلاف جدوجہد کریں گے۔ انہو ںنے مرکزی حکومت بالخصوص بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ میاپنگ کے ذریعہ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور SIR کے ذریعہ الیکشن کمیشن میاپنگ کو مکمل کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹکنالوجی کے دور میں مرکزی حکومت سے جمہوری اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر جاری ان اقدامات سے ہندوستان کی عالمی سطح پر شبییہ متاثر ہورہی ہے لیکن حکومت اپنے رویہ میں تبدیلی لانے کی بجائے اقتدار پر بنے رہنے کی آرزو لئے شہریوں کو مشکلات میں مبتلاء کر رہی ہے۔ ملک میں جاری ٹکنالوجی کے انقلاب اور مصنوعی ذہانت کے دور میں ہندوستان کے مستقبل سے متعلق پروگرام میں اکھلیش یادو نے کہا کہ ملک میں کئی شعبہ جات تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں اور تعلیم کے شعبہ میں بحران کی صورتحال ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ بڑی تعداد میں طلبہ ترک تعلیم پر مجبور ہونے لگے ہیں اس کے علاوہ ملک کو بے روزگار افراد کی تعداد میں اضافہ کے بحران کا سامنا ہے۔اکھلیش یادو نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور عصری ٹکنالوجی کے استعمال کے ذریعہ ہندوستانی نوجوانوں کو انفارمیشن ٹکنالوجی کے میدان میں آنے والی تبدیلیوں کو سیکھتے ہوئے خود کو دور حاضر کی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونا چاہئے ۔3