راہول شاستری …یوگیندر یادو
جب کوئی واقعہ یا کوئی چیز اور تبدیلی خودبخود واقع ہوتی ہے تو سائنسداں اسے ’’فطری تجربہ ‘‘ کہتے ہیں ۔ یعنی اگر کوئی واقعہ بناء کسی منصوبہ و پروگرام کے ہوجاتا ہے تو اسے بھی ’’فطری تجربہ‘‘ کہا جاتا ہے چنانچہ اس طرح کے حالات میں دو چیزوں کا موازنہ اور تقابل کرنے کا موقع ملا ۔ مثال کے طورپر مودی حکومت نے بناء سوچے سمجھے کورونا وائرس کی عالمی وباء کے وقت اچانک لاک ڈاؤن نافذ کردیا ۔ اس ضمن میں ہم ایک اور مثال پیش کرتے ہیں ۔ مثال کے طورپر اگر صنعتوں کو بند اور گاڑیوں کو سڑکوں پر دوڑنے سے روک دیا جائے تو آسماں کیسے دکھائی دے گا ؟ آسمانی طیف اور لکیروں میں کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی اور آسمان جو پہلے ہی سے نیلا ہے اور کتنا نیلا ہوگا ؟
ایس آئی آر کے بارے میں ہم بلا جھجک یہ کہہ سکتے ہیں اور کہتے آرہے ہیں کہ یہ مسئلہ فہرست رائے دہندگان کی جامع نظرثانی کے تصور میں نہیں ہے اس کا مقصد اور تصور کچھ اور ہے۔ ایس آئی آر کے پیچھے حکومت کے ارادے اور نیت کچھ اور ہی ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اس میں دو عناصر بہت زیادہ اہم ہیں ایک تو فہرست رائے دہندگان میں ناموں کے اندراج کے فارم کی بھرتی اور دوسرے شہریت ثابت کرنے کی شرط ہے ۔ یہ دونوں تجربات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ جب مذکورہ دونوں عناصر کو ہٹادیا جائے تو فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی بڑے پیمانہ پر حق رائے دہی سے محرومی کا سبب نہیں بنتی ۔ اس ضمن میں آپ کو ایس آئی آر اور اس کے پیچھے کارفرما وجوہات اور عزائم و ارادوں کی کہانی ؟ اس کے ابتدائی نکتہ سے بتاتے ہیں ۔ آپ کو یاد ہوگا کہ بہار میں انتخابات سے عین قبل ایس آئی آر شروع کیا گیا اور اس کے ذریعہ 65 لاکھ رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان سے نکال دیئے گئے ،یہ سب یوں ہی نہیں کیا گیا بلکہ ایک سازش اور ناپاک منصوبے کے تحت کیاگیا۔ جس وقت بہارمیں الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے کہاکہ ایس آئی آر کاعمل اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اور پھر مسودہ فہرست کی اشاعت عمل میں لائی گئی جب اس فہرست نے ہر کسی کو چونکا دیا ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ایک لاکھ نہیں دو لاکھ نہیں پورے 65 لاکھ رائے دہندوں کے نام حذف کردیئے گئے تھے اور پھر ریاست میں ایک بھونچال پیدا ہوگیا ۔ اپوزیشن جماعتوں نے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایس آئی آر کرنے کامطالبہ کیا اس طرح حذف شدہ ناموں کی تعداد 65 لاکھ سے گھٹ کر 44 لاکھ رہ گئی اور سب کے پاس اپنی وضاحتیں موجود تھیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بہار سے دوسری ریاستوں کو نقل مکانی کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے کیونکہ غربت ، بیروزگاری اور مہنگائی کے نتیجہ میں بہار کے لوگ دوسری ریاستوں میں مزدوری کرتے ہیں ، کام کی تلاش میں وہ دوسری ریاستوں کارُخ کرتے ہیں اور شائد اس کی وجہ سے نہ صرف بہار بلکہ ان ریاستوں میں جہاں وہ منتقل ہوئے ہیں فہرست رائے دہندگان میں اُن کے نام موجود ہوں گے ۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بہار میں ایسے بے شمار مائیگرینٹس ورکرس ہیں جو نقلی ووٹ رکھتے ہیں ، آپ لوگ یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ دوسرے مرحلہ کے ایس آئی آر میں 12 ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کا احاطہ کیا گیا اور باالفاظ دیگر الیکشن کمیشن آف انڈیا کی اس مہم کے ذریعہ نصف ہندوستان کا احاطہ کرلیا گیا جس میں 6.5 کروڑ رائے دہندوں کے نام حذف کئے گئے ۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایس آئی آر کے ذریعہ خاتون رائے دہندگان کے ناموں کو حذف کیا گیا ۔ اکثر لوگ اس بات سے واقف نہیں ہے کہ ایس آئی آر کے بعد ہر ریاست کی فہرست رائے دہندگان میں صنفی تناسب میں گراوٹ آئی ہے ۔ اس طرح کے حقائق ایک سوال چھوڑ گئے اور وہ سوال یہ ہے کہ وہ کونسا مختلف طریقہ اختیار کرنا ہوگا جو حق رائے دہی سے محرومی کا باعث نہیں بنتا ؟ اس سوال کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں تھا لیکن اب آسام میں ہونے والے ایک فطری تجربہ کی بدولت ہمیں اس سوال کاجواب مل گیا ہے ۔ آپ کو یہ بھی یاد دلادیں کہ آسام ملک کی وہ واحد ریاست ہے جہاں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایس آئی آر طریقہ کار کو ترک کردیا ۔ وہاں فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی اس وقت کی گئی جیسے دوسری ریاستوں میں کی گئی مگر وہاں ایس آئی آر کیلئے گھر گھر جاکر رائے دہندوں کی موجودگی کا ایک سخت طریقہ اپنایا گیا حد تو یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے وہاں کسی قسم کے بھی Enumeration فارمس کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی ، کسی شخص سے شہریت ثابت کرنے کوئی دستاویز بھی طلب نہیں کی گئی جو یقینا حیرت کی بات ہے کیونکہ آسام وہ واحد ریاست ہے جہاں شہریت کا مسئلہ ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے اور جہاں بی جے پی حکومت نے شہریت ثابت نہ کرنے والوں کیلئے کئی ایک مراکز حراست قائم کئے ہیں۔
اس ریاست میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے SIR پر عمل کیلئے نہایت باریک اور واضح ہدایات جاری کئے جس کے نتائج آپ خود دیکھ سکتے ہیں ۔ الیکشن کمیشن کے مطابق آسام کی فہرست رائے دہندگان میں دو کروڑ باون لاکھ رائے دہندوں کے نام موجود تھے ۔ ان میں سے 10.56 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کئے گئے جبکہ 10.55 لاکھ رائے دہندوں کے نام شامل کئے گئے ۔ اس طرح حال ہی میں جاری کی گئی فہرست رائے دہندگان میں رائے دہندگان کی تعداد 2.56 کروڑ رہی ۔ اس کے برعکس دوسری بڑی ریاستوں میں 8 تا 19 فیصد رائے دہندوں کے ناموں کو حذف کیاگیا ۔ جہاں تک اُترپردیش کا معاملہ ہے وہاں عجیب و غریب صورتحال پائی گئی ۔ ریاستی الیکشن کمیشن اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے عمل کے دو مختلف نتائج سامنے آئے ۔ ایک طرف اس ریاست میں الیکشن کمیشن آف انڈیا ایس آئی آر پر عمل کررہا تھا ، دوسری طرف ریاستی الیکشن کمیشن پنچایت انتخابات کے لئے اپنی الگ فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی پہلے ہی مکمل کرچکا تھا اور یہ بھی ایک حیرت کی بات رہی کہ بی جے پی کی زیراقتدار ریاست میں پنچایت انتخابات کیلئے جس فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کی گئی ان میں Enumeration فارمس اور نہ ہی شہریت ثابت کرنے کے کاغذات کا کوئی حوالہ ہی تھا ۔
