حیدرآباد: دلت قائدین اور کارکنوں نے الزام عائد کیا کہ شیڈولڈ کا سٹس اینڈ شیڈ ولڈ ٹرائیبس (پریوینشن آف آئروسٹیز) ایکٹ پر، جو 31 سال پہلے نافذ ہوا تھا، مؤثر طور پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے جبکہ دلتوں اور سماج کے کمزور طبقات کے خلاف تشدد جاری ہے۔ اس سلسلہ میں ایک کارکن بی رام پرساد نے ڈسٹرکٹ کلکٹر حیدرآباد کو ایک مکتوب تحریر کرتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ پولیس اور ریونیو کے عہدیداروں کو حکم دیں کہ وہ ایس سی ؍ ایس ٹی ایکٹ پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کریں۔ اس کارکن کی جانب سے داخل کئے گئے حق معلومات (آر ٹی آئی) کے مطابق گذشتہ چار سال میں حیدرآباد ڈسٹرکٹ میں ایس سی ؍ ایس ٹی ایکٹ کے تحت صرف 636 کیسیس درج کئے گئے۔ ان میں 6 قتل کے واقعات اور 115 عصمت ریزی کیسیس شامل ہیں۔ ایس سی ؍ ایس ٹی ایکٹ کے تحت 94 کیسیس رجسٹرڈ کئے گئے جس 30 عصمت ریزی کے کیسیس ہیں۔ رام پرساد نے، جو ڈسٹرکٹ ویجیلینس اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے اپنے مکتوب میں الزام عائد کیا کہ ’’قانون کا نفاذ اور عملدرآمد کرنے والے عہدیدار ہی بشمول پولیس اور ریونیو کے عہدیدار اس معاملہ میں کوتاہی اور غفلت کررہے ہیں۔ ان کی دانستہ لاپرواہی کے باعث ہی ایس سی اور ایس ٹی طبقات پر مظالم میں اضافہ ہورہا ہے بالخصوص دلت خواتین کی عصمت ریزی کے واقعات میں۔ ان کی غفلت اس کی اصل وجہ ہے۔ دلتوں پر مظالم اور گھناؤنے جرائم کا تذکرہ کرتے ہوئے رام پرساد نے کہا کہ ایس سی ؍ ایس ٹی ایکٹ کے قواعد کے مطابق پولیس ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر یا انکار نہیں کرسکتی اور محکمہ مال کے عہدیدار معاوضہ ادا کرنے میں تاخیر نہیں کرسکتے اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کے تحت آتا ہو۔ رام پرساد نے کہا کہ سینکڑوں کیسیس تحقیقاتی مرحلہ میں زیرالتواء ہیں۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ کلکٹر پر زور دیا کہ اس سلسلہ میں فوری توجہ دی جائے اور اس قانون پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔