ایشیا میں طلاق کی خواہاں خواتین کو متعدد رکاوٹوں کا سامنا

   

کراچی ۔ 25 اگست (ایجنسیز) براعظم ایشیا کے کئی معاشروں میں طلاق کے قوانین اور سماجی روایات اب بھی زیادہ تر خواتین کے خلاف ہیں، جس کے باعث انہیں شدید جذباتی اور مالی دباؤ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کراچی، پاکستان کی 33 سالہ زویا احمد اپنے شوہر سے طلاق چاہتی ہیں، لیکن اس کیلئے انہیں ایک مشکل عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے شوہر نے ان کے فیصلے کے جواب میں انتقامی مہم شروع کر دی، جس کے تحت مبینہ طور پر جھوٹے پولیس کیسز درج کروائے گئے، جن میں ناجائز تعلقات کا مجرمانہ مقدمہ اور جائیداد کے جھگڑے بھی شامل ہیں۔ زویا بتاتی ہیں کہ یہ (ناجائز تعلقات کا کیس) خواتین کے خلاف ہے۔ عدالت میں مجھے انتہائی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کمرہ عدالت مردوں سے بھرا ہوتا ہے… جس طرح سب میری طرف دیکھتے ہیں، یہ ایک الگ خوفناک تجربہ ہے۔ ویا نے کہا کہ ازدواجی زندگی ٹوٹنے کی ایک وجہ جنسی عدم مطابقت بھی تھی۔ ان کے مطابق شوہر نے ان کی قربت کی خواہش کو سماجی طور پر ان کیخلاف استعمال کیا اور کہا کہ تمہیں سیکس چاہیے تھا نا، اب ملے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے کئی مرد دوستوں کو ناجائز تعلقات کے کیس میں پھنسایا گیا، جس سے ان کی سماجی حیثیت مزید متاثر ہوئی۔ ایشیا بھر میں طلاق کو اب بھی شدید سماجی بدنامی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ اگرچہ ہندوستان، پاکستان اور انڈونیشیا سمیت کئی ملکوں میں طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے، لیکن خواتین کے لیے اس کے نتائج بدستور ہولناک ہیں۔