ایشیا پیسیفک کی 15 معیشتوں میں دنیا کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ

,

   

چینی حمایت یافتہ معاہدہ میں امریکہ شامل نہیں ،ہندوستان پہلے سے ہی دستبردار
ہنوئی (ویتنام) :اتوار کو ایشیا پیسیفک کی 15 معیشتوں نے دنیا کے سب سے بڑے آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔میڈیا کے مطابق یہ چینی حمایت یافتہ معاہدہ ہے جس میں امریکہ شامل نہیں ہے جبکہ انڈیا پہلے ہی اس سے دستبردار ہو چکا ہے۔ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں ریجنل کمپریہنسو اکنامک پارٹنرشپ (آر سی ای پی) پر دستخط اس گروپ کیلئے ایک اور دھکہ ہے جس کو سابق صدر براک اوباما نے شروع کیا تھا تاہم موجودہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ایشیا میں امریکی مصروفیات سے متعلق سوالات اٹھنے کے بعد ریجنل کمپریہنسو اکنامک پارٹنرشپ جنوب مشرقی ایشیا میں چین کی پوزیشن مضبوط کرسکتا ہے۔یہ دنیا کی دوسری بڑی اکنامی کو خطے کے تجارتی قوانین کو بنانے کیلئے بہتر موقف فراہم کرسکتا ہے۔ امریکہ آر سی ای پی اور اوباما انتظامیہ کی ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ سے غیر حاضر رہا۔آر سی ای پی بیجنگ کی بین الاقوامی مارکیٹ اور ٹیکنالوجی پر انحصار ختم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ میڈیا کے مطابق ورچول خطاب میں چینی وزیراعظم لی کی چیانگ نے کہا کہ 8 سال کے مذاکرات کے بعد آر سی ای پی پر دستخط ہوئے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کثیرالجہتی صحیح راستہ ہے اور یہ عالمی معیشت اور انسانیت کی صحیح سمت کی نمائندگی کرتا ہے۔ آر سی ای پی 2012ء میں تجویز کیا گیا تھا۔ اس معاہدے پر دستخط جنوب مشرقی ایشیا کے چوٹی اجلاس (آسیان سمٹ) کے موقع پر ہوئے۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے متعدد ممالک کورونا وائرس کی وبا سے لڑ رہے ہیں اور ان ممالک کو امید ہے کہ آر سی ای پی ان کی معیشت کو بہتر کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ ہندوستان نے گذشتہ سال نومبر میں آر سی ای پی کے مذاکرات سے دستبرداریاختیار کرلی تھی تاہم آسیان کے قائدین نے کہا کہ اس میں شامل ہونے کیلئے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔ ویتنام کی وزارت تجارت اور انڈسٹری کی ملٹی لیٹرل ٹریڈ پالیسی کے سربراہ نے کہا ہے کہ آر سی ای پی انڈسٹریل اور زراعت کے پروڈکٹس پر ٹیرف کو کم کرنے یا ختم کرنے میں مدد کرے گا اور ڈیٹا کی منتقلی کے قواعد وضوابط بھی وضع کیے جائیں گے۔