قرض کی بھی منظوری نہیں دی گئی ، بینک ٹیم کا پراجکٹ کا جائزہ لینے دورہ
حیدرآباد۔24جنوری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ میں تاحال ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے کوئی معاہدہ یا قرض کی منظوری نہیں دی ہے کیونکہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی ٹیم جو شہر حیدرآباد میں موسیٰ ندی پراجکٹ کے ترقیاتی کاموں کے منصوبوں کا جائزہ لینے کے لئے حیدرآباد کا دورہ کر رہی ہے میں شامل رکن نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے تاحال ’’کانسپٹ نوٹ‘‘ یعنی پراجکٹ کا خاکہ بینک کو پیش نہیں کیا گیا ہے جبکہ کسی بھی پراجکٹ کے لئے بینک کو وصول ہونے والی درخواست کے ساتھ ابتدائی خاکہ لازمی ہے لیکن حکومت تلنگانہ نے تاحال کوئی خاکہ بینک کو پیش نہیں کیاہے۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس پراجکٹ میں پیشرفت کے نام پر ندی کے دونوں جانب موجود مکینوں کو برخواست کرنے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے تحت یہ ادعا کیا جاتا رہا ہے کہ ریاستی حکومت نے اس پراجکٹ کی تکمیل کے لئے ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے قرض کی منظوری حاصل کرلی ہے۔ شہر حیدرآباد کا دورہ کررہی بینک کے نمائندوں کی ٹیم کے ذمہ داروں نے موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے عہدیداروں سے بھی ملاقات کرتے ہوئے ان کے پاس موجود پراجکٹ کی تفصیلات کے متعلق استفسارات کئے ہیں اور بینک کے نمائندوں نے ’موسی جن آندولن‘ کے حکام اور اس جدوجہد میں شامل جہدکاروں سے بھی ملاقات کرتے ہوئے ان سے بھی پراجکٹ کی تفصیلات حاصل کی ہیں۔بتایاجاتاہے کہ موسیٰ ندی جن آندولن کے جہدکاروں نے ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کی گئی بات چیت میں ریاستی وزراء کی جانب سے ایوان میں دیئے گئے بیانات اور اس میں کئے گئے قرض کی منظوری کے دعوؤں کی تفصیلات پیش کیں اور ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے علاوہ ندی کے دونوں جانب موجود سلم بستیوں کو برخواست کرنے کے لئے کی گئی کاروائیوں سے واقف کرواتے ہوئے بتایا کہ ریاستی حکومت نے موسیٰ ندی کو ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے تعاون سے ترقی دینے کے نام پر تاحال 400 مکینوں کو ان کی بازآبادکاری کے بغیر وہاں ہٹادیا ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے نمائندوں کی ٹیم جو شہر حیدرآباد کا دورہ کر رہی ہے کے اہلکاروں نے تلنگانہ حکومت کے اعلانات اور منصوبہ کے متعلق تمام تفصیلات حاصل کرلی ہیں۔3