ایغور مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کی رپورٹس غلط:چین

   

دہشت گردی کے خاتمہ کی کوششیں اقوام متحدہ کی پالیسی کے مطابق،بیجنگ کی وضاحت

نئی دہلی۔3 ڈسمبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) چین نے مغربی میڈیا میں صوبہ شنزیانگ میں ایغور مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کی رپورٹوں کو بے بنیاد، منفی اور دوہرے معیار کا ثبوت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو یقین ہے کہ شنزیانگ میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کرنے کی کوششیں اقوام متحدہ کی پالیسیوں کے تحت ہو رہی ہیں اور لوگوں کے تمام قانونی حقوق محفوظ ہیں۔چینی سفارت خانے کی طرف سے یہاں جاری ایک بیان میں ہندوستان میں چین کے سفیر سن ویڈونگ نے یہ باتیں کہیں۔ سن ویڈونگ نے کہا کہ حال ہی میں کچھ مغربی میڈیا تنظیموں نے شنزیانگ سے کچھ افشاکردہ نام نہاد دستاویزات کی بنیاد پر اور صوبے میں کاروباری تعلیم اور تربیت کو لے کر بڑھا چڑھا کر رائے پیش کی ہے ۔ ان کے منفی رویہ کایہ ثبوت ہے کہ وہ انسداددہشت گردی اور تعصب کے خاتمے کے اقدامات کو لے کر دوہرا معیار اپنا رہے ہیں اور شنزیانگ سے متعلق معاملات کا استعمال چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کیلئے کر رہے ہیں۔ سفیر نے کہا کہ شنزیانگ کا موضوع مکمل طور پر چین کا داخلی معاملہ ہے۔ اس کامعاملہ نسل، مذہب یا انسانی حقوق سے منسلک نہیں ہے بلکہ تشدد، دہشت گردی اور علیحدگی پسندی سے نمٹنے کو لے کر ہے ۔ سال 2015 سے چین نے شنزیانگ میں انسداد دہشت گردی اور کٹر پن کے خاتمے کی کوششوں اور کاروباری تعلیم و تربیت کے کاموں پر سات قرطاس ابیض جاری کئے ہیں جن میں بہت واضح طور پر اور تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ شنزیانگ میں کیا ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں کاروباری تعلیم و تربیت کے مراکز قانون کے مطابق ہی قائم کئے گئے ہیں ۔