جبری مزدوری کے تحت تیار کئی چینی مصنوعات کا امریکہ نے بائیکاٹ کیا
واشنگٹن : امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے چین میں ایغور مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھانے کا جو سلسلہ جاری رکھا ہے اس کو سب سے پہلے اگر دنیا کے علم میں لایا گیا تو وہ امریکہ تھا ۔ یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نومنتخبہ صدر جوبائیڈن کی ملت برادری کے بعد نئی کابینہ میں برقرار نہیں رہیں گے اور ڈونالڈ ٹرمپ کی طرح اُن کے بھی اب کچھ ہی دن باقی رہ گئے ہیں ۔ ٹوئیٹر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پومپیو نے کہا کہ امریکہ ہی وہ ملک ہے جس نے چین میں ایغور مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستحم اور انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق دنیا کو واقف کروایا اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے چین کی ان مصنوعات کا بائیکاٹ شروع کردیا ہے جو چین میں جبری مزدوری کے تحت تیار کی جاتی ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ ایغور مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے ایغور خواتین کو بھی ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے مصائب کا تذکرہ ببانگ دہل کرسکتے ہیں اور دنیا کو یہ بتاسکتی ہیں کہ کس طرح کمیونسٹ پارٹی نے ایغور خاندانوں کو لاپتہ کروانے میں اہم رول ادا کیا ۔ اپنے ٹوئیٹ میںانہوں نے مزید کہا کہ ژنجیانگ میں ایغور مسلمانوں کے قید خانوں کے بارے میں دنیا کو سب سے پہلے تفصیلی معلومات امریکہ نے فراہم کی اور اس کے بعد امریکہ نے چین کے سی سی پی عہدیداروں پر تحدیدات عائد کیں اور جبری مزدوروی کے ذریعہ تیار کی گئی مصنوعات کی درآمد بھی بند کردی ۔ انہوں نے اپنی بات ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہا کہ ایغور مسلم خواتین میں ہمت اور حوصلہ کی کوئی کمی نہیں ہے اور ہمت و حوصلہ کی حامل خواتین کو امریکہ نے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کروایا ہے جس کے تحت وہ اپنی آواز دنیا کو پہنچا سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے بھی ژنجیانگ میں انسانی حقوق کی پامالی پر سی سی پی کے خلاف مہم چلانے میں پیشرفت کی تھی ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ژنجیانگ میں لاکھوں ایغور مسلمانوں ڈیٹنشن سنٹرس بھیجے جانے پر ساری دنیا نے چین پر تنقیدیں کی تھیں ۔ چین نے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی شروع کرتے ہوئے ان کو جبری طور پر تعلیمی نوعیت کے ڈینٹیشن سنٹرل میں ڈال دیا تھا جو آج بھی وہاں موجود ہیں ۔ دوسری طرف چین ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور اپنے دفاع میں ہمیشہ یہ کہتا رہا ہے کہ چین نے انسانی حقو ق کی کوئی پامالی نہیں کی ہے جبکہ صحافیوں ، این جی اوز اور ڈیٹنشن سنٹرس سے زندگی گزار کے آنے والوں نے چائینیز کمیونسٹ پارٹی کے ایغور مسلمانوں کے خلاف کی گئی کارروائی کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے ۔ حالیہ دنوں میں امریکی کانگریس کے ایک کمیشن نے اپنی نئی رپورٹ میں کہا تھا کہ چین نے امکانی طور پر ایغور مسلمانوں کے علاوہ دیگر نسل کے مسلمانوں کی بھی نسل کشی کی ہے جن میں سنسرشپ اور اپنے مذہب پر عمل پیرا ایغور مسلمانوں کو ڈیٹنشن سنٹر بھیجنا شامل ہے ۔